حدیث نمبر: 3698
حَدَّثَنَا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي، حَدَّثَنَا أحمد بن عبيد الله النَّرْسي، حَدَّثَنَا أبو أحمد الزُّبَيري، حَدَّثَنَا عمران بن زائدة بن نَشِيط، عن أبيه، عن أبي خالد الوالِبيّ، عن أبي هريرة قال: تلا رسولُ الله ﷺ: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ﴾ [الشورى: 20]، ثم قال رسول الله ﷺ: "يقول الله ﷿: ابنَ آدمَ، تفرَّغْ لعبادتي أَملأْ صدرَك غِنًى، وأَسُدَّ فقرَك، وإلَّا تفعلْ ملأتُ صدرَك شُغلًا، ولم أَسدَّ فقرَك" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3657 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿مَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الْآخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِي حَرْثِهِ وَمَنْ كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ نَصِيبٍ﴾ ”جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ہم اسے اسی میں سے دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔“ [سورة الشورى: 20] پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غنا (بے نیازی) سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کا راستہ بند کر دوں گا، اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو میں تیرے سینے کو مصروفیات سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی ختم نہیں کروں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3698
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتمل للتحسين من أجل زائدة بن نشيط
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين من أجل زائدة بن نشيط، والد عمران، فقد روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وأبو خالد الوالبي روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال أبو حاتم الرازي: صالح الحديث. أبو أحمد الزبيري: هو محمد بن عبد الله بن الزبير الأسدي مولاهم. وأخرجه أحمد ...» [ترقيم الرساله 3698] [ترقيم الشركة 3678] [ترقيم العلميه 3657]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده محتمل للتحسين من أجل زائدة بن نشيط، والد عمران، فقد روى عنه اثنان، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وأبو خالد الوالبي روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات"، وقال أبو حاتم الرازي: صالح الحديث. أبو أحمد الزبيري: هو محمد بن عبد الله بن الزبير الأسدي مولاهم. وأخرجه أحمد 14 / (8696) عن أبي أحمد محمد بن عبد الله الزبيري، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: "زائدہ بن نشیط" (عمران کے والد) کی وجہ سے اس میں "تحسین" کا احتمال ہے۔ (ان سے دو راویوں نے روایت کیا، ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا)۔ ابو خالد والبی (راویوں نے روایت کیا، ابن حبان نے ثقات میں ذکر کیا، ابو حاتم نے صالح الحدیث کہا)۔
نوٹ / توضیح: ابو احمد زبیری سے مراد محمد بن عبد اللہ بن زبیر اسدی ہیں۔ اسے احمد (14/ 8696) نے ابو احمد زبیری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (4107)، والترمذي (2466)، وابن حبان (393) من طريقين عن عمران بن زائدة، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4107)، ترمذی (2466)، اور ابن حبان (393) نے عمران بن زائدہ کے واسطے سے دو طرق سے تخریج کیا ہے۔
ورواه أبو أسامة حماد بن أسامة - كما في "علل الدارقطني" (1596) - عن عمران بن زائدة موقوفًا على أبي هريرة.
حوالہ / مصدر: ابو اسامہ حماد بن اسامہ نے (علل الدارقطنی 1596) میں عمران بن زائدہ سے اسے ابو ہریرہ پر "موقوف" روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن معقل بن يسار، وسيأتي عند المصنّف برقم (8124)، وسنده ضعيف.
متابعات و شواہد: اس باب میں معقل بن یسار کی روایت بھی ہے، جو مصنف کے ہاں آگے (8124) پر آئے گی، اور اس کی سند "ضعیف" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3698 سے ماخوذ ہے۔