حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد قال: قال عبد الله بن مسعود: الحواميمُ دِيباجُ القرآن (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3634 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3634 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”«حواميم» (یعنی وہ سورتیں جو «حم» سے شروع ہوتی ہیں) قرآن کا دیباج (ریشم و زینت) ہیں۔“ سفیان کہتے ہیں کہ حبیب بن ابی ثابت نے ایک شخص کے واسطے سے بیان کیا کہ وہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ ایک مسجد تعمیر کر رہے تھے، اس نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”یہ آلِ حامیم کے لیے ہے۔“
قال سفيان: وحدثني حبيب بن أبي ثابت، عن رجلٍ: أنه مرَّ على أبي الدَّرداء وهو يَبني مسجدًا، فقال: ما هذا؟ فقال: هذا لآلِ حاميمَ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3635 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3635 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
وہ شخص حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرا جبکہ وہ ایک مسجد تعمیر کر رہے تھے۔ اس شخص نے (تعمیر کی مشقت یا مقصد دیکھ کر) پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”یہ آلِ حم (حٰمٓ والی سورتوں) کے لیے ہے۔“
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهران، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، أخبرنا أبو إسحاق، عن أبي الأحوَص، عن عبد الله بن مسعود في قوله ﷿: ﴿رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ﴾ [غافر: 11]، قال: هي مثلُ التي في البقرة ﴿وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ [البقرة: 28] (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3636 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3636 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿رَبَّنَا أَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَأَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ﴾ [سورة غافر: 11] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا سورت البقرہ کی اس آیت میں ہے: ﴿وَكُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَأَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾ ”اور تم بے جان تھے تو اس نے تمہیں زندگی بخشی، پھر وہ تمہیں موت دے گا، پھر تمہیں زندہ کرے گا، پھر اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔“ [سورة البقرة: 28]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن سليمان التَّيمي، عن أبي نَضْرة، عن ابن عبَّاس قال: يُنادي منادٍ بين يديِ الساعة: يا أيُّها الناس، أتتكُم الساعةُ، فيَسمعُها الأحياءُ والأمواتُ، ويَنزِلُ اللهُ إلى السماء الدنيا فينادي: ﴿لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾ [غافر: 16] (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3637 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3637 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: قیامت سے پہلے ایک پکارنے والا پکارے گا: اے لوگو! تمہارے پاس قیامت آ پہنچی ہے، اسے زندہ اور مردہ سب سنیں گے، اور اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرمائے گا اور پکارے گا: ﴿لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ﴾ ”آج کس کی بادشاہی ہے؟ اللہ کی جو اکیلا اور سب پر غالب ہے۔“ [سورة غافر: 16]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔