أخبرنا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أَبي، حدثنا محمد بن عبد الله الأَسَدي، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن يحيى بن عُمَارة، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: مَرِضَ أبو طالب، فجاءت قريشٌ، فجاء النبيُّ ﷺ وعند رأسِ أبي طالب مجلسُ رجلٍ، فقام أبو جهل كي يَمنعَه ذاك، وشَكَوْه إلى أبي طالب، فقال: يا ابنَ أخي، ما تريدُ من قومك؟ قال: "يا عمِّ، إنما أريدُ منهم كلمةً تَذِلُّ لهم بها العربُ، وتؤدِّي إليهم بها الجزيةَ العَجَمُ"، قال: كلمةً واحدةً؟ قال: "كلمةً واحدةً"، قال: ما هي؟ قال: "لا إلهَ إِلَّا اللهُ"، قال: فقالوا: أجعَلَ الآلهة إلهًا واحدًا إنَّ هذا لشيءٌ عُجَاب؟ قال: ونزل فيهم: ﴿ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ حتى بَلَغَ ﴿إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ﴾ [ص: 1 - 7] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3617 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3617 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوطالب بیمار ہوئے تو قریش کے لوگ (عیادت کے لیے) آئے، نبی کریم ﷺ بھی تشریف لائے تو ابوطالب کے سرہانے ایک شخص کے بیٹھنے کی جگہ تھی، ابوجہل (جلدی سے) وہاں بیٹھ گیا تاکہ آپ ﷺ کو وہاں بیٹھنے سے روک دے، پھر ان لوگوں نے ابوطالب سے آپ ﷺ کی شکایت کی، ابوطالب نے کہا: اے بھتیجے! آپ اپنی قوم سے کیا چاہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے چچا! میں ان سے صرف ایک ایسا کلمہ چاہتا ہوں جس کی بدولت عرب ان کے تابع ہو جائیں اور عجم انہیں جزیہ ادا کریں“، انہوں نے پوچھا: کیا صرف ایک کلمہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، صرف ایک کلمہ“، انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«لا اله الا الله» (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)“، راوی کہتے ہیں: اس پر وہ کہنے لگے: کیا اس نے تمام معبودوں کا ایک ہی معبود بنا دیا، یہ تو بڑی عجیب بات ہے؟ اور ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ سے لے کر اس فرمان تک: ﴿إِنْ هَذَا إِلَّا اخْتِلَاقٌ﴾ ”یہ تو محض ایک من گھڑت بات ہے۔“ [سورة ص: 1 - 7]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا وهب بن جَرِير، حدثني أَبي قال: سمعتُ محمدَ بن إسحاق قال: حدثني العبَّاس بن عبد الله بن مَعبَد بن عبَّاس (2)، عن ابن عبَّاس قال: نَزَلَ ﴿ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ فيهم وفي مَجلسِهم؛ يعني مجلسَ أبي طالب وأبي جهل واجتماعَ قريشٍ إليهم حين نازَعُوا رسولَ الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3618 - على شرط مسلم والعباس ثقة
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3618 - على شرط مسلم والعباس ثقة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ﴿ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ﴾ ان لوگوں اور ان کی اس مجلس کے بارے میں نازل ہوئی یعنی ابوطالب اور ابوجہل کی وہ مجلس جہاں قریش جمع ہوئے تھے جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بحث و تکرار کی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن دينار الزاهد، حدثنا الحسين بن الفَضْل، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن التَّمِيمي، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَلَاتَ حِينَ مَنَاصٍ﴾ [ص: 3]، قال: ليس بحِينِ نَزْوٍ ولا فِرارٍ (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3619 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3619 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَاتَ حِين مَنَاصٍ﴾ [سورة ص: 3] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: اس سے مراد یہ ہے کہ وہ وقت اچھلنے کودنے یا راہِ فرار اختیار کرنے کا نہیں ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔