کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أحمد (2) بن علي الأبّار، حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن بكَّار الدمشقي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني أبو رافع، عن سعيد المَقبُري، عن أبي مسعود الأنصاري، عن النبي ﷺ قال: "أكثروا الصلاةَ عليَّ في يوم الجُمُعة، فإنه ليس يُصلِّي عليَّ أحدٌ يومَ الجُمعة إلَّا عُرِضَت عليَّ صلاتُه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ أبا رافع هذا هو إسماعيل بن رافع، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3577 - إسماعيل بن رافع أبو رافع ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ جمعہ کے دن جو بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے (کیونکہ ابورافع سے مراد اسماعیل بن رافع ہیں) لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3619
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرَّة من أجل أبي رافع إسماعيل بن رافع
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرَّة من أجل أبي رافع إسماعيل بن رافع، فإنَّ الجمهور على تضعيفه، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 3619] [ترقيم الشركة 3598] [ترقيم العلميه 3577]
أخبرنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن بن عيسى السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفيل بن أُبيِّ بن كعب، عن أُبيِّ بن كعب قال: كان رسول الله ﷺ إذا ذهب رُبعُ الليل قام، فقال: "يا أيُّها الناس، اذكُروا الله، يا أيُّها الناس، اذكُروا الله، جاءت الراجفةُ تَتْبعُها الرادفةُ، جاء الموتُ بما فيه، جاء الموتُ بما فيه". فقال أبيُّ بن كعب: يا رسول الله، إني أُكثِرُ الصلاةَ عليك، فكم أجعلُ لك منها؟ قال: "ما شئتَ" قال: الرُّبعَ؟ قال: "ما شئتَ، وإن زدتَ فهو خيرٌ" قال: النصفَ؟ قال: "ما شئتَ، وإن زدتَ فهو خيرٌ" قال: الثُّلثين؟ قال: "ما شئتَ، وإن زدتَ فهو خيرٌ" قال: يا رسول الله، أجعلُها كلَّها لك؟ قال: "إذًا تُكفَى ما هَمَّكَ، ويُغفَرَ لكَ ذَنْبُك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3578 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رات کا چوتھائی حصہ گزر جاتا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوتے اور فرماتے: ”اے لوگو! اللہ کو یاد کرو، اے لوگو! اللہ کو یاد کرو، کپکپا دینے والی (قیامت) آ پہنچی ہے جس کے پیچھے پیچھے دوسری آنے والی ہے، موت اپنی سختیوں کے ساتھ آ پہنچی ہے، موت اپنی سختیوں کے ساتھ آ پہنچی ہے۔“ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں، میں اپنی دعا میں سے کتنا حصہ آپ کے لیے (درود کے لیے) مقرر کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنا تم چاہو،“ میں نے کہا: چوتھائی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنا چاہو، لیکن اگر اس سے زیادہ کرو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے،“ میں نے کہا: آدھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنا چاہو، لیکن اگر اس سے زیادہ کرو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے،“ میں نے کہا: دو تہائی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جتنا چاہو، لیکن اگر اس سے زیادہ کرو تو وہ تمہارے لیے بہتر ہے،“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اپنی پوری دعا آپ کے لیے (درود کے لیے) مقرر کرتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تمہاری پریشانیوں کے لیے کافی ہو جائے گا اور تمہارے گناہ بخش دیے جائیں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3620
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل
تخریج حدیث «إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل عبد الله بن محمد بن عقيل، وقد جاء ما يشهد للشطر الثاني من حديثه. سفيان: هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3620] [ترقيم الشركة 3599] [ترقيم العلميه 3578]