حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفَضْل البَجَلي، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا ثابت البُنَاني: أنه تَلَا قول الله ﷿: ﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾ [الأحزاب: 56]، فقال ثابت: قَدِمَ علينا سليمانُ مولى الحسن بن علي، فحدَّثَنا عن عبد الله بن أبي طَلْحة الأنصاري، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ جاء ذات يومٍ والبِشْرُ يُرَى في وجهه، فقلنا: يا رسول الله، إنا لنَرى البِشرَ في وجهك، فقال: "إنَّه أتاني الملَكُ، فقال: يا محمدُ، إنَّ ربك يقول: أمَا تَرضَى ما أحدٌ من أمَّتِك صلَّى عليك إلَّا صلَّيتُ عليه عشرَ صَلَوَاتٍ، ولا سَلَّم عليك أحدٌ من أمَّتِك إلَّا رَدَدتُ عليه عشرَ مرَّاتٍ؟ فقال: بَلَى" (1).
هذا حديث صحيح (2)، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3575 - صحيح
هذا حديث صحيح (2)، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3575 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ابی طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن تشریف لائے اور آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار نمایاں تھے، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپ کے چہرے پر خوشی دیکھ رہے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس فرشتہ آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا رب فرماتا ہے: کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے جو بھی آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں گا، اور آپ کی امت میں سے جو بھی آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے گا میں اس پر دس مرتبہ سلامتی بھیجوں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں (میں راضی ہوں)۔“
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو صالح محبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش وسفيان، عن عبد الله بن السائب، عن زاذانَ، عن ابن مسعود، عن النبي ﷺ قال: "إنَّ لله ملائكة سيَّاحِينَ في الأرض يُبلِّغوني عن أمَّتي السلامَ" (1). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد عَلَوْنا في حديث الثَّوري، فإنه مشهور عنه، فأما حديث الأعمش عن عبد الله بن السائب، فإنا لم نَكتُبه إلَّا بهذا الإسناد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3576 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3576 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں سیاحت کرنے والے (گھومنے والے) ہیں جو مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اگرچہ امام ثوری کی روایت مشہور ہے لیکن اعمش کی سند سے ہم نے اسے صرف اسی طریق سے لکھا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اگرچہ امام ثوری کی روایت مشہور ہے لیکن اعمش کی سند سے ہم نے اسے صرف اسی طریق سے لکھا ہے۔