کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آیت ”اللہ نے تم میں سے ایمان والوں سے وعدہ فرمایا“ کے نزول کا سبب
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثني أحمد بن سعيد الدارِمي، حدثنا علي بن الحسين بن واقدٍ، حدثني أَبي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أُبيِّ بن كعب قال: لما قَدِمَ رسولُ الله ﷺ وأصحابُه المدينةَ وآوَتْهم الأنصارُ، رَمَتْهم العربُ عن قوسٍ واحدة، كانوا لا يَبِيتون إلَّا بالسلاح ولا يُصبِحون إلَّا فيه، فقالوا: تُرَونَ أنّا نعيشُ حتى نبيتَ آمنين مطمئنِّين لا نخافُ إِلَّا الله؟! فنزلت: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا﴾ إلى ﴿وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ﴾ يعني بالنِّعمة ﴿فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [النور: 55] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3512 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3512 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ مدینہ تشریف لائے اور انصار نے انہیں ٹھکانہ دیا، تو تمام عربوں نے ان کے خلاف ایک ہی کمان سے تیر چلایا (یعنی متحد ہو کر دشمنی پر تل گئے)، ان کی حالت یہ تھی کہ وہ ہتھیاروں کے بغیر رات بسر نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ہتھیاروں کے بغیر صبح کرتے تھے، تو صحابہ نے عرض کیا: ”کیا آپ دیکھتے ہیں کہ ہم کبھی ایسی زندگی جی سکیں گے کہ ہم امن و اطمینان کے ساتھ رات گزاریں اور ہمیں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ رہے؟“ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا﴾ [سورة النور: 55] ”اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت عطا فرمائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو عطا فرمائی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور مضبوطی کے ساتھ قائم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اسے ضرور امن سے بدل دے گا۔“ اور فرمایا ﴿وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ﴾ یعنی جس نے اس نعمت کی ناشکری کی ﴿فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ ”تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔“ [سورة النور: 55]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن أبي دارِمٍ الحافظ، حدثنا أحمد بن موسى التميمي (2)، حدثنا مِنجابُ بن الحارث، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن أبي حَصِين، عن أبي عبد الرحمن السُّلَمي، عن علي في قوله: ﴿لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [النور: 58]، قال: النساءُ، فإنَّ الرجال يَستأذِنون (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3513 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3513 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لِيَسْتَأْذِنْكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النور: 58] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(اس سے مراد) عورتیں (لونڈیاں) ہیں، کیونکہ مرد تو (پہلے ہی صاحبِ خانہ سے) اجازت طلب کرتے ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔