حدیث نمبر: 3554
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو سعيد محمد بن شاذان، حدثني أحمد بن سعيد الدارِمي، حدثنا علي بن الحسين بن واقدٍ، حدثني أَبي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أُبيِّ بن كعب قال: لما قَدِمَ رسولُ الله ﷺ وأصحابُه المدينةَ وآوَتْهم الأنصارُ، رَمَتْهم العربُ عن قوسٍ واحدة، كانوا لا يَبِيتون إلَّا بالسلاح ولا يُصبِحون إلَّا فيه، فقالوا: تُرَونَ أنّا نعيشُ حتى نبيتَ آمنين مطمئنِّين لا نخافُ إِلَّا الله؟! فنزلت: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا﴾ إلى ﴿وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ﴾ يعني بالنِّعمة ﴿فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ [النور: 55] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3512 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ مدینہ تشریف لائے اور انصار نے انہیں ٹھکانہ دیا، تو تمام عربوں نے ان کے خلاف ایک ہی کمان سے تیر چلایا (یعنی متحد ہو کر دشمنی پر تل گئے)، ان کی حالت یہ تھی کہ وہ ہتھیاروں کے بغیر رات بسر نہیں کرتے تھے اور نہ ہی ہتھیاروں کے بغیر صبح کرتے تھے، تو صحابہ نے عرض کیا: ”کیا آپ دیکھتے ہیں کہ ہم کبھی ایسی زندگی جی سکیں گے کہ ہم امن و اطمینان کے ساتھ رات گزاریں اور ہمیں اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ رہے؟“ تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا﴾ [سورة النور: 55] ”اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے کہ وہ انہیں زمین میں ضرور خلافت عطا فرمائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو عطا فرمائی تھی، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور مضبوطی کے ساتھ قائم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اسے ضرور امن سے بدل دے گا۔“ اور فرمایا ﴿وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ﴾ یعنی جس نے اس نعمت کی ناشکری کی ﴿فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ ”تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔“ [سورة النور: 55]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3554
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن.
تخریج حدیث «إسناده حسن. أبو العالية: هو رفيع بن مِهران.» [ترقيم الرساله 3554] [ترقيم الشركة 3533] [ترقيم العلميه 3512]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن. أبو العالية: هو رفيع بن مِهران.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو العالیہ سے مراد رفیع بن مہران ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 6، و"الاعتقاد" ص 265 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (3/ 6) اور "الاعتقاد" (ص 265) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الضياء في "المختارة" (3/ 1145) من طريق عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي، عن أحمد بن سعيد الدارمي، به.
حوالہ / مصدر: اسے ضیاء مقدسی نے "المختارۃ" (3/ 1145) میں عبد اللہ بن محمد بن حسن شرقی کے طریق سے، انہوں نے احمد بن سعید دارمی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الضياء أيضًا (1146) من طريق محمد بن عبدة المروزي، عن علي بن الحسين بن واقد، به.
حوالہ / مصدر: اسے ضیاء مقدسی نے بھی (1146) میں محمد بن عبدہ مروزی کے طریق سے، انہوں نے علی بن حسین بن واقد سے تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3554 سے ماخوذ ہے۔