المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَنْبِيَاءِ - إِنَّ شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي باب: سورۂ انبیاء کی تفسیر – بے شک میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ گاروں کے لیے ہے
حدیث نمبر: 3483
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر بن أحمد بن موسى المزكِّي، حدثنا محمد بن إبراهيم العَبْدي، حدثنا يعقوب بن كعب الحَلَبي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن زُهَير بن محمد العَنبَري، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ تَلَا قولَ الله ﷿: ﴿وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى﴾ [الأنبياء: 28]، فقال رسول الله ﷺ: "إنَّ شفاعتي لأهلِ الكبائر من أمَّتي" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3442 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَى﴾ [سورة الأنبياء: 28] کی تلاوت فرمائی، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا ہوگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح لغيره، رجاله ثقات إلّا أنَّ رواية الشاميين عن زهير بن محمد فيها مناكير، والوليد بن مسلم دمشقي، وقد تابعه عمرو بن أبي سلمة فيما سلف عند المصنف برقم (232)، وعمرو شامي أيضًا. وأخرجه ابن ماجه (4310) عن عبد الرحمن بن إبراهيم الدمشقي، عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: (2) یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی ثقہ ہیں مگر شامیوں کی زہیر بن محمد سے روایت میں منکر چیزیں ہوتی ہیں، اور ولید بن مسلم دمشقی (شامی) ہیں۔ لیکن ان کی متابعت عمرو بن ابی سلمہ نے کی ہے (جو خود بھی شامی ہیں) جو نمبر (232) پر گزری۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4310) نے ولید بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ نکالا ہے۔
درجۂ حدیث: (2) یہ "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راوی ثقہ ہیں مگر شامیوں کی زہیر بن محمد سے روایت میں منکر چیزیں ہوتی ہیں، اور ولید بن مسلم دمشقی (شامی) ہیں۔ لیکن ان کی متابعت عمرو بن ابی سلمہ نے کی ہے (جو خود بھی شامی ہیں) جو نمبر (232) پر گزری۔
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4310) نے ولید بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ نکالا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3483 سے ماخوذ ہے۔