کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا لباس جب انہوں نے کوہِ طور پر اپنے رب سے کلام کیا
أخبرنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا عمر بن حفص بن غِيَاث، حدثنا أَبي وخَلَف بن خليفة، عن حُميد بن قيس، عن عبد الله بن الحارث، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ: "يومَ كلَّمَ اللهُ موسى كانت عليه جُبَّةُ صوفٍ وكِساءُ صوفٍ وسَراويلُ صوفٍ وكُمَّةُ صوفٍ، ونَعلانِ من جلدِ حمارٍ غيرِ ذكيٍّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3431 - بل ليس على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3431 - بل ليس على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس دن اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کلام فرمایا، اس وقت ان کے جسم پر اون کا جبہ، اون کی چادر، اون کا پاجامہ اور اون ہی کی ٹوپی تھی، اور ان کے جوتے غیر ذبح شدہ گدھے کی کھال کے بنے ہوئے تھے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفَّان بن مُسلِم، حدثنا أبو هلال، حدثنا قَتَادة، عن أبي حسّان، عن عِمران بن حُصَين قال: كان النبي ﷺ يحدِّثنا عامَّةَ ليلِه عن بني إسرائيل، لا يقومُ إِلَّا لعُظْمِ صلاة (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3432 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3432 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ اپنی اکثر رات ہمیں بنی اسرائیل کے حالات سنانے میں صرف فرماتے تھے، اور آپ ﷺ صرف نماز کے بڑے وقت (یعنی فرض نماز کی ادائیگی) کے لیے ہی قیام فرماتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔