حدثني محمد بن صالح بن هانئ حدثنا الحسين بن الفضل، حدثنا زهير بن حَرْب، حدثنا وَكيع، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي الأحوص، عن عبد الله قال: أفرَسُ الناسِ ثلاثةٌ: العَزيزُ حين قال لامرأته: ﴿أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا﴾ [يوسف: 21]، والتي قالت: ﴿يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾ [القصص: 26]، وأبو بكرٍ حين تَفرَّسَ في عمر، ﵄ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3320 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3320 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صحیح فراست (پرکھ) رکھنے والے تین شخص ہیں: ایک عزیزِ مصر، جب اس نے اپنی بیوی سے (سیدنا یوسف علیہ السلام کے بارے میں) کہا: ﴿أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا﴾ [سورة يوسف: 21] ”ان کے قیام کا اچھا انتظام کرو، عجب نہیں کہ یہ ہمیں نفع دیں یا ہم انہیں بیٹا بنا لیں“، دوسری وہ خاتون (سیدہ صفورہ) جس نے (سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اپنے والد سے) کہا: ﴿يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ﴾ [سورة القصص: 26] ”اے ابا جان! آپ انہیں اجرت پر رکھ لیجیے، بیشک بہترین شخص جسے آپ اجرت پر رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو“، اور تیسرے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ جب انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں اپنی فراست سے (خلافت کے لیے) انتخاب فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شُعبة، عن سليمان قال: سمعت أبا وائل يقول: سمعت عبدَ الله يقرأ: ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ [يوسف: 23]، فقيل له، فقال: هكذا عُلِّمْنا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3321 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3321 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابووائل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو (لفظ) ﴿هَيْتَ لَكَ﴾ [سورة يوسف: 23] پڑھتے ہوئے سنا، جب ان سے اس بارے میں (قرأت کے حوالے سے) پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ”ہمیں اسی طرح سکھایا گیا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔