کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کو عربی زبان الہاماً عطا فرمائی
حدثني أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدِّي، حدثنا أبو ثابت محمد بن عُبيد الله المدني، حدثني إبراهيم بن سعد، عن سفيان الثَّوري، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابر قال: قال رسول الله ﷺ: "أُلهِمَ إبراهيمُ الخليلُ ﵇ هذا اللسانَ العربيَّ إلهامًا" (1).
هذا حديث غريب صحيح على شرط الشيخين إن كان الفضلُ بن محمد حَفِظَه متَّصلًا عن أبي ثابت:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3315 - على شرط مسلم
هذا حديث غريب صحيح على شرط الشيخين إن كان الفضلُ بن محمد حَفِظَه متَّصلًا عن أبي ثابت:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3315 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے خلیل سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے قلبِ مبارک میں یہ عربی زبان الہام کے ذریعے ڈالی گئی تھی“۔
یہ حدیث غریب ہے لیکن شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ فضل بن محمد نے اسے ابوثابت سے متصل سند کے ساتھ محفوظ رکھا ہو۔
یہ حدیث غریب ہے لیکن شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ فضل بن محمد نے اسے ابوثابت سے متصل سند کے ساتھ محفوظ رکھا ہو۔
فقد حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا أبو عبد الرحمن النَّسَائي، حدثنا عُبيد الله بن سعد الزُّهْري، حدثنا عمِّي، عن أبيه، عن سفيان، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن رسول الله ﷺ مرسلًا نحوَه (1).
حافظ طلحہ بابر
امام نسائی نے اسی مفہوم کی حدیث سفیان ثوری سے، انہوں نے جعفر بن محمد سے اور انہوں نے اپنے والد سے مرسل روایت کی ہے (یعنی اس کی سند میں صحابی کا ذکر نہیں ہے)۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيْباني الحافظ إملاءً، حدثنا حامد بن محمود المقرئ، حدثنا عيسى بن جعفر الرازي، حدثنا سفيان بن سعيد، عن عُمر (2) بن سعيد، عن عطاءٍ في قول الله ﷿: ﴿رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ﴾ [هود: 73]، قال: كنت عند عبد الله بن عبَّاس إذ جاءَه رجل فسَلَّم عليه، فقلت: وعليكم السلامُ ورحمةُ الله وبركاتُه ومغفرتُه، فقال ابن عبَّاس: انتَهِ إلى ما انتَهَت إليه الملائكةُ (3).
هذا حديث غريب صحيح للثَّوري لا أعلمُ أنّا كتبناه إلَّا بهذا الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3316 - صحيح غريب
هذا حديث غريب صحيح للثَّوري لا أعلمُ أنّا كتبناه إلَّا بهذا الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3316 - صحيح غريب
حافظ طلحہ بابر
عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ﴾ [سورة هود: 73] کی تفسیر میں بیان کیا کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص نے آ کر انہیں سلام کیا، تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا: ”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ“، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (مجھے ٹوکتے ہوئے) فرمایا: ”وہیں ٹھہر جاؤ جہاں فرشتے ٹھہر گئے تھے (یعنی سلام کے جواب میں برکاتہ سے آگے نہ بڑھو کیونکہ قرآن میں فرشتوں کے یہی کلمات مذکور ہیں)“۔
یہ حدیث امام ثوری سے مروی ایک غریب صحیح حدیث ہے، میرے علم کے مطابق یہ صرف اسی سند کے ساتھ لکھی گئی ہے، اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام ثوری سے مروی ایک غریب صحیح حدیث ہے، میرے علم کے مطابق یہ صرف اسی سند کے ساتھ لکھی گئی ہے، اور اسے شیخین نے روایت نہیں کیا۔