أخبرنا ميمون بن إسحاق الهاشمي، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا المفضَّل بن صالح، عن أبي إسحاق، عن حَنَش الكِناني قال: سمعت أبا ذرٍّ يقول وهو آخذٌ بباب الكعبة: أيها الناس، من عَرَفني فأنا من عرفتُم، ومن أنكَرَني فأنا أبو ذرٍّ، سمعت رسول الله ﷺ يقول: "مَثَلُ أهلِ بيتي مثلُ سفينةِ نوحٍ، مَن رَكِبَها نَجَا، ومن تَخلَّف عنها غَرِقَ" (2)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3312 - مفضل خرج له الترمذي فقط ضعفوه
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3312 - مفضل خرج له الترمذي فقط ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کعبہ کا دروازہ پکڑ کر بلند آواز میں کہا: اے لوگو! جو مجھے پہچانتا ہے وہ تو جانتا ہی ہے اور جو مجھے نہیں پہچانتا وہ جان لے کہ میں ابوذر ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میرے اہل بیت کی مثال نوح علیہ السلام کی کشتی کی سی ہے، جو اس میں سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہو گیا“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحسن بن موسى الأشيَب، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن داود بن أبي هند، عن أبي العاليَة، عن عبد الله بن عبَّاس: أنَّ رسول الله ﷺ أَتى على وادي الأزرق، فقال: "ما هذا؟ " قالوا: وادي الأزرق، فقال: "كأني أنظرُ إلى موسى بن عِمرانَ مُنهبِطًا له جُؤَارٌ إلى الله بالتَّكبير"، ثم أتى على ثَنِيَّةٍ فقال: "ما هذه الثَّنيَّة؟ "، قالوا: ثنيَّةُ كذا وكذا، فقال: "كأني أنظرُ إلى يونُسَ بنِ مَتَّى على ناقةٍ حمراءَ جَعْدَةٍ خِطامُها لِيفٌ وهو يُلبِّي وعليه جُبَّةُ صوفٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3313 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3313 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ”وادی ازرق“ سے گزرے تو دریافت فرمایا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ صحابہ نے عرض کیا: یہ وادی ازرق ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا میں سیدنا موسیٰ بن عمران علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس وادی سے نیچے اتر رہے ہیں اور بلند آواز سے اللہ کے حضور تکبیر (اللہ اکبر) پکار رہے ہیں“، پھر آپ ﷺ ایک گھاٹی پر پہنچے تو پوچھا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں فلاں گھاٹی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا میں یونس بن متی علیہ السلام کو ایک سرخ رنگ کی توانا اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں، جس کی مہار کھجور کے ریشوں سے بنی ہوئی ہے، وہ اون کا جبہ پہنے ہوئے ہیں اور (لبیک اللھم لبیک پکارتے ہوئے) تلبیہ کہہ رہے ہیں“۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني أبو عمرو محمد بن جعفر بن محمد بن مَطَر، وأنا سألتُه، قال: حدثني أبو محمد جعفر بن أحمد بن نَصْر الحافظ، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا معاوية بن هشام، عن شَيْبان عن أبي إسحاق، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: قال أبو بكر الصِّدِّيق: [يا رسولَ الله] (2) أَراكَ قد شِبتَ، قال: شَيَّبَتني هودٌ والواقعةُ وعمَّ يتساءَلون وإذا الشمسُ كُوِّرَت" (3).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3314 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3314 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ پر بڑھاپے کے اثرات (بالوں کی سفیدی) آ گئے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے سورہ ہود، سورہ واقعہ، سورہ عم يتساءلون اور سورہ اذا الشمس كورت (کے ہولناک مضامین) نے بوڑھا کر دیا ہے“۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔