کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا نوح علیہ السلام کا اپنی قوم میں طویل قیام اور کشتی بنانے کا واقعہ
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا موسى بن يعقوب الزَّمْعي، حدثني فائدٌ مولى عُبيد الله بن علي بن أبي رافع، أنَّ إبراهيم بن عبد الرحمن بن أبي رَبيعة أخبره، أنَّ عائشة زوجَ النبي ﷺ أخبرته، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لو رَحِمَ اللهُ أحدًا من قوم نوحٍ، لرَحِمَ أمَّ الصَّبي"، قال رسول الله ﷺ: "كان نوحٌ مَكَثَ في قومه ألفَ سنة إلَّا خمسين عامًا يَدعُوهم، حتى كان آخرَ زمانه غَرَسَ شجرةً، فعَظُمَت وذهبت كلَّ مَذهَبٍ ثم قَطَعَها، ثم جعل يعملُها سفينةً ويَمرُّون فيسألونه، فيقول: أعمَلُها سفينةً، فيَسخَرون منه، ويقولون: تعملُ سفينةً في البَرِّ؟! وكيف تجري؟ قال: سوف تعلمون، فلما فَرَغَ منها فارَ التَّنُّورُ وكَثُرَ الماءُ في السِّكَك، خَشِيَت أمُّ الصبي عليه وكانت تحبُّه حبًا شديدًا، فخرجت إلى الجبل حتى بَلَغَت ثُلثَه (1)، فلما بَلَغَها الماءُ خرجت به حتى استَوَت على الجبل، فلما بلغ الماءُ رَقَبتَها (2)، رفعته بيدها حتى ذهب بهما الماءُ، فلو رَحِمَ الله منهم أحدًا لرَحِمَ أمَّ الصَّبي" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3310 - إسناده مظلم وموسى ليس بذاك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3310 - إسناده مظلم وموسى ليس بذاك
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ قومِ نوح میں سے کسی پر رحم فرماتا تو اس بچے کی ماں پر رحم فرماتا“، پھر آپ ﷺ نے (واقعہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ”سیدنا نوح علیہ السلام اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال (ساڑھے نو سو سال) تک مقیم رہے اور انہیں دعوتِ حق دیتے رہے، یہاں تک کہ اپنے آخری وقت میں انہوں نے ایک درخت لگایا، جب وہ بہت بڑا اور تناور ہو گیا تو انہوں نے اسے کاٹ کر اس سے کشتی بنانی شروع کی، لوگ وہاں سے گزرتے ہوئے ان سے (حیرت سے) پوچھتے تو وہ فرماتے: میں کشتی بنا رہا ہوں، جس پر وہ ان کا مذاق اڑاتے اور کہتے: کیا تم خشکی پر کشتی بنا رہے ہو؟! یہ چلے گی کیسے؟ انہوں نے فرمایا: تم عنقریب جان لو گے، پھر جب وہ اس کی تیاری سے فارغ ہوئے تو تنور ابل پڑا ﴿وَفَارَ التَّنُّورُ﴾ اور گلیوں میں پانی کی کثرت ہو گئی، اس بچے کی ماں کو اس کی جان کی فکر لاحق ہوئی کیونکہ وہ اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی، چنانچہ وہ اسے لے کر پہاڑ کی طرف نکل گئی یہاں تک کہ اس کے تہائی حصے تک جا پہنچی، پھر جب پانی وہاں تک پہنچ گیا تو وہ اسے لے کر مزید اوپر چلی گئی یہاں تک کہ پہاڑ کی چوٹی پر جا کھڑی ہوئی، پھر جب پانی اس کی گردن تک پہنچ گیا تو اس نے بچے کو اپنے ہاتھوں سے (ڈوبنے سے بچانے کے لیے) اوپر اٹھا لیا یہاں تک کہ پانی ان دونوں کو بہا لے گیا، پس اگر اللہ ان میں سے کسی پر رحم فرماتا تو اس بچے کی ماں پر رحم فرماتا“۔ [سورة هود: 40]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامري، حدثنا أبو يحيى الحِمّاني، حدثنا النَّضر أبو عمر الخزَّاز، عن عِكرمة، عن ابن عبَّاس قال: كان بين نوح وهلاك قومه ثلاث مئة سنة، وكان فارَ التَّنُّورُ بالهند، وطافت سفينةُ نوح بالكعبة أُسبوعًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3311 - النضر ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3311 - النضر ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: سیدنا نوح علیہ السلام (کی بعثت) اور ان کی قوم کی ہلاکت کے درمیان تین سو سال کا فاصلہ تھا، اور وہ تنور (جس سے پانی ابلنا شروع ہوا تھا) ہند کی زمین میں تھا، اور سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی نے بیت اللہ (کعبہ) کا ایک ہفتہ (سات بار) طواف کیا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔