حدیث نمبر: 3349
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا موسى بن يعقوب الزَّمْعي، حدثني فائدٌ مولى عُبيد الله بن علي بن أبي رافع، أنَّ إبراهيم بن عبد الرحمن بن أبي رَبيعة أخبره، أنَّ عائشة زوجَ النبي ﷺ أخبرته، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لو رَحِمَ اللهُ أحدًا من قوم نوحٍ، لرَحِمَ أمَّ الصَّبي"، قال رسول الله ﷺ: "كان نوحٌ مَكَثَ في قومه ألفَ سنة إلَّا خمسين عامًا يَدعُوهم، حتى كان آخرَ زمانه غَرَسَ شجرةً، فعَظُمَت وذهبت كلَّ مَذهَبٍ ثم قَطَعَها، ثم جعل يعملُها سفينةً ويَمرُّون فيسألونه، فيقول: أعمَلُها سفينةً، فيَسخَرون منه، ويقولون: تعملُ سفينةً في البَرِّ؟! وكيف تجري؟ قال: سوف تعلمون، فلما فَرَغَ منها فارَ التَّنُّورُ وكَثُرَ الماءُ في السِّكَك، خَشِيَت أمُّ الصبي عليه وكانت تحبُّه حبًا شديدًا، فخرجت إلى الجبل حتى بَلَغَت ثُلثَه (1)، فلما بَلَغَها الماءُ خرجت به حتى استَوَت على الجبل، فلما بلغ الماءُ رَقَبتَها (2)، رفعته بيدها حتى ذهب بهما الماءُ، فلو رَحِمَ الله منهم أحدًا لرَحِمَ أمَّ الصَّبي" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3310 - إسناده مظلم وموسى ليس بذاك
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ تعالیٰ قومِ نوح میں سے کسی پر رحم فرماتا تو اس بچے کی ماں پر رحم فرماتا“، پھر آپ ﷺ نے (واقعہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ”سیدنا نوح علیہ السلام اپنی قوم میں پچاس کم ایک ہزار سال (ساڑھے نو سو سال) تک مقیم رہے اور انہیں دعوتِ حق دیتے رہے، یہاں تک کہ اپنے آخری وقت میں انہوں نے ایک درخت لگایا، جب وہ بہت بڑا اور تناور ہو گیا تو انہوں نے اسے کاٹ کر اس سے کشتی بنانی شروع کی، لوگ وہاں سے گزرتے ہوئے ان سے (حیرت سے) پوچھتے تو وہ فرماتے: میں کشتی بنا رہا ہوں، جس پر وہ ان کا مذاق اڑاتے اور کہتے: کیا تم خشکی پر کشتی بنا رہے ہو؟! یہ چلے گی کیسے؟ انہوں نے فرمایا: تم عنقریب جان لو گے، پھر جب وہ اس کی تیاری سے فارغ ہوئے تو تنور ابل پڑا ﴿وَفَارَ التَّنُّورُ﴾ اور گلیوں میں پانی کی کثرت ہو گئی، اس بچے کی ماں کو اس کی جان کی فکر لاحق ہوئی کیونکہ وہ اس سے بے پناہ محبت کرتی تھی، چنانچہ وہ اسے لے کر پہاڑ کی طرف نکل گئی یہاں تک کہ اس کے تہائی حصے تک جا پہنچی، پھر جب پانی وہاں تک پہنچ گیا تو وہ اسے لے کر مزید اوپر چلی گئی یہاں تک کہ پہاڑ کی چوٹی پر جا کھڑی ہوئی، پھر جب پانی اس کی گردن تک پہنچ گیا تو اس نے بچے کو اپنے ہاتھوں سے (ڈوبنے سے بچانے کے لیے) اوپر اٹھا لیا یہاں تک کہ پانی ان دونوں کو بہا لے گیا، پس اگر اللہ ان میں سے کسی پر رحم فرماتا تو اس بچے کی ماں پر رحم فرماتا“۔ [سورة هود: 40]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3349
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لتفرُّد موسى بن يعقوب الزمعي به
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لتفرُّد موسى بن يعقوب الزمعي به، وله ما يُنكَر، وهذا منها، وهو إنما يعتبر به في المتابعات والشواهد، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" فقال معقِّبًا على تصحيح الحاكم له: إسناده مظلم وموسى ليس بذاك. وقال الحافظ ابن كثير في "البداية والنهاية" 1/ 266: هذا حديث غريب، وقد روي ...» [ترقيم الرساله 3349] [ترقيم الشركة 3329] [ترقيم العلميه 3310]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: ثلمة، والتصحيح ممّا سيأتي عند المصنف برقم (4054) ومن مصادر التخريج.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "ثلمہ" بن گیا تھا۔ تصحیح مصنف کے ہاں آنے والی رقم (4054) اور تخریج کے مصادر سے کی گئی ہے۔
(2) في النسخ: رقبته.
نوٹ / توضیح: نسخوں میں "رقبتہ" ہے۔
(3) إسناده ضعيف لتفرُّد موسى بن يعقوب الزمعي به، وله ما يُنكَر، وهذا منها، وهو إنما يعتبر به في المتابعات والشواهد، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه" فقال معقِّبًا على تصحيح الحاكم له: إسناده مظلم وموسى ليس بذاك. وقال الحافظ ابن كثير في "البداية والنهاية" 1/ 266: هذا حديث غريب، وقد روي عن كعب الأحبار ومجاهد وغير واحد شبيهٌ لهذه القصة، وأحرى بهذا الحديث أن يكون موقوفًا متلقًّى عن مثل كعب الأحبار.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ موسیٰ بن یعقوب الزمعی اس میں منفرد ہے، اور اس کی منکر روایات ہیں جن میں سے یہ بھی ایک ہے۔ اس کا اعتبار صرف متابعات و شواہد میں ہوتا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسی وجہ سے ذہبی نے "تلخیص" میں حاکم کی تصحیح پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: اس کی سند تاریک (مظلم) ہے اور موسیٰ اتنا قوی نہیں ہے۔ حافظ ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" (1/ 266) میں کہا: یہ حدیث غریب ہے۔ اس قصے کے مشابہ کعب الاحبار اور مجاہد وغیرہ سے مروی ہے۔ زیادہ مناسب یہی ہے کہ یہ موقوف ہو اور کعب الاحبار جیسے لوگوں سے لی گئی ہو۔
وأخرجه كرواية المصنف الطبري في "تفسيره" 12/ 35، وفي تاريخه 1/ 180، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 6/ 2027، والطبراني في "الأوسط"كما في "مجمع البحرين" (3591)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 62/ 654 من طرق عن سعيد بن الحكم بن أبي مريم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اسے مصنف کی روایت کی طرح طبری نے "تفسیر" (12/ 35) اور "تاریخ" (1/ 180) میں، ابن ابی حاتم نے "تفسیر" (6/ 2027) میں، طبرانی نے "الاوسط" (مجمع البحرین: 3591) میں، اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (62/ 654) میں سعید بن حکم بن ابی مریم سے مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3349 سے ماخوذ ہے۔