أخبرني أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدثنا أبو عِصْمة سهل بن المتوكِّل، حدثنا عمرو بن مرزوق، حدثنا شُعبة، عن قَتادة، عن أنس، عن أُبي بن كعب: ﴿وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ [يونس:2]، قال: سَلَفَ صِدْقٍ عند ربِّهم (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3297 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3297 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ، سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: ﴿وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ [سورة يونس: 2] ”اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دیجیے کہ ان کے رب کے پاس ان کے لیے سچائی کا مقام ہے“ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ان کا اپنے رب کے ہاں ”نیکیوں کا وہ ذخیرہ ہے جو وہ پہلے بھیج چکے ہیں“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا النَّضْر بن شُميل، حدثنا عُيينة بن عبد الرحمن الغَطَفاني، قال: سمعت أَبي يحدِّث عن أبي بَكْرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لا تَبْغِ ولا تكن باغيًا، فإنَّ الله يقول: ﴿إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ﴾ [يونس: 23] " (2).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3298 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3298 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم زیادتی نہ کرو اور نہ ہی سرکش بنو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ﴾ [سورة يونس: 23] ”تمہاری سرکشی تمہاری اپنی جانوں کے خلاف ہی ہے“۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔