کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا: اللہ مجھے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة، حدثنا أحمد بن إسحاق التَّميمي، حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، عن أبي حَصِين، عن أبي الضُّحَى، عن ابن عبَّاس قال: آخر كلام إبراهيم حين أُلقِيَ في النار: حَسْبيَ الله ونِعمَ الوكيلُ، وقال نبيُّكم ﷺ مثلَها: ﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ [آل عمران: 173] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3167 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3167 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلام «حَسْبِيَ اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ”مجھے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے“ تھا، اور تمہارے نبی ﷺ نے بھی اسی طرح کے کلمات کہے تھے: ﴿الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ﴾ ”وہ لوگ جن سے (مخالف) لوگوں نے کہا کہ کافروں نے تمہارے مقابلے کے لیے لشکر جمع کر لیے ہیں، سو تم ان سے ڈرو، تو اس بات نے ان کے ایمان کو مزید بڑھا دیا اور انہوں نے کہا: ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے“ [سورة آل عمران: 173]۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن خَيْثمة، عن عبد الله قال: والذي لا إله غيرُه، ما على الأرض نفسٌ إلَّا الموتُ خيرٌ لها، إن كان مؤمنًا فإنَّ الله يقول: ﴿لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [آل عمران: 198]، وإن كان فاجرًا فإنَّ الله يقول: ﴿إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا﴾ [آل عمران:178] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3168 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3168 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! روئے زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے مگر یہ کہ موت اس کے لیے (زندگی سے) بہتر ہے، کیونکہ اگر وہ مومن ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ ”لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، ان کے لیے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں“ [سورة آل عمران: 198]، اور اگر وہ بدکار ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا﴾ ”ہم تو انہیں اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور بڑھ جائیں“ [سورة آل عمران: 178]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو عمرو المُستَملي، حدثنا أبو هشام الرِّفاعي، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، حدثنا أبو إسحاق، حدثنا أبو وائل قال: قال عبد الله: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [آل عمران:180] قال: ثُعبانٌ له زَبيبتان يَنهَشُه في قبره، يقول: أنا مالُك الذي بَخِلتَ به (1). سمعت يحيى بن منصور يقول: سمعت أبا عمرو المُستَملي يقول: سمعت أبا هشام الرِّفاعي يقول: سمعت أبا بكر بن عيَّاش يقول: والله ما كَذَبَتُ على أبي إسحاق، ولا أرى أبا إسحاق كَذَبَ على أبي وائل، ولا أرى أبا وائل كَذَبَ على عبد الله. رواه الثَّوْريُّ عن أبي إسحاق:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3169 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ "" {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَجِيئُهُ ثُعْبَانٌ فَيَنْقُرُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَتَطَوَّقُ فِي عُنُقِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3169 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ "" {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَجِيئُهُ ثُعْبَانٌ فَيَنْقُرُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَتَطَوَّقُ فِي عُنُقِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ ”جس مال میں انہوں نے بخل کیا تھا، قیامت کے دن وہی ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا“ [سورة آل عمران: 180] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(وہ طوق) ایک ایسا اژدہا ہوگا جس کے سر پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اسے اس کی قبر میں ڈسے گا اور کہے گا: میں وہی تمہارا مال ہوں جس میں تم نے بخل کیا تھا۔“ یحییٰ بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابوعمرو مستملی کو سنا، انہوں نے ابوہشام رفاعی کو سنا، انہوں نے ابوبکر بن عیاش کو سنا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے ابواسحاق پر جھوٹ نہیں باندھا، اور میں نہیں سمجھتا کہ ابواسحاق نے ابو وائل پر جھوٹ بولا ہو، اور نہ ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابو وائل نے سیدنا عبداللہ بن مسعود پر جھوٹ بولا ہو۔ اسے امام ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
أخبرَناه أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن أبي وائل، عن عبد الله في قوله: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ قال: قال عبد الله: يجيئُه ثعبانٌ فيَنقُر رأسَه ثم يَتطوَّق في عُنقِه، ثم يقول: أنا مالُكَ الذي بَخِلتَ به (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة آل عمران: 180] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اس (بخیل) کے پاس ایک اژدہا آئے گا جو اس کے سر کو نوچے گا، پھر اس کی گردن کا طوق بن جائے گا اور کہے گا: میں تمہارا وہ مال ہوں جس میں تم نے بخل کیا تھا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔