المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
كَانَ آخِرُ كَلَامِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ ( حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ) باب: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا: اللہ مجھے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرِير، عن الأعمش، عن خَيْثمة، عن عبد الله قال: والذي لا إله غيرُه، ما على الأرض نفسٌ إلَّا الموتُ خيرٌ لها، إن كان مؤمنًا فإنَّ الله يقول: ﴿لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ [آل عمران: 198]، وإن كان فاجرًا فإنَّ الله يقول: ﴿إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا﴾ [آل عمران:178] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3168 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! روئے زمین پر کوئی ایسی جان نہیں ہے مگر یہ کہ موت اس کے لیے (زندگی سے) بہتر ہے، کیونکہ اگر وہ مومن ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَكِنِ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ﴾ ”لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، ان کے لیے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں“ [سورة آل عمران: 198]، اور اگر وہ بدکار ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا﴾ ”ہم تو انہیں اس لیے مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ گناہ میں اور بڑھ جائیں“ [سورة آل عمران: 178]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں مگر یہ منقطع ہے؛
فنی نکتہ / علّت: خیثمہ (ابن عبدالرحمن الجعفی) نے عبداللہ (ابن مسعود) سے نہیں سنا۔ اسحاق سے مراد ’ابن ابراہیم‘ ہیں جو ابن راہویہ کے نام سے معروف ہیں، اور جریر سے مراد ’ابن عبدالحمید‘ ہیں۔
وأخرجه رجه البيهقي في "القضاء والقدر" (325) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "القضاء والقدر" (325) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔