المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
كَانَ آخِرُ كَلَامِ إِبْرَاهِيمَ حِينَ أُلْقِيَ فِي النَّارِ ( حَسْبِيَ اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ) باب: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو ان کا آخری کلمہ یہ تھا: اللہ مجھے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے
أخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو عمرو المُستَملي، حدثنا أبو هشام الرِّفاعي، حدثنا أبو بكر بن عيَّاش، حدثنا أبو إسحاق، حدثنا أبو وائل قال: قال عبد الله: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [آل عمران:180] قال: ثُعبانٌ له زَبيبتان يَنهَشُه في قبره، يقول: أنا مالُك الذي بَخِلتَ به (1). سمعت يحيى بن منصور يقول: سمعت أبا عمرو المُستَملي يقول: سمعت أبا هشام الرِّفاعي يقول: سمعت أبا بكر بن عيَّاش يقول: والله ما كَذَبَتُ على أبي إسحاق، ولا أرى أبا إسحاق كَذَبَ على أبي وائل، ولا أرى أبا وائل كَذَبَ على عبد الله. رواه الثَّوْريُّ عن أبي إسحاق:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3169 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فِي قَوْلِهِ "" {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} [آل عمران: 180] قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَجِيئُهُ ثُعْبَانٌ فَيَنْقُرُ رَأْسَهُ ثُمَّ يَتَطَوَّقُ فِي عُنُقِهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ ”جس مال میں انہوں نے بخل کیا تھا، قیامت کے دن وہی ان کے گلے کا طوق بنا دیا جائے گا“ [سورة آل عمران: 180] کے بارے میں روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”(وہ طوق) ایک ایسا اژدہا ہوگا جس کے سر پر دو سیاہ نقطے ہوں گے، وہ اسے اس کی قبر میں ڈسے گا اور کہے گا: میں وہی تمہارا مال ہوں جس میں تم نے بخل کیا تھا۔“ یحییٰ بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابوعمرو مستملی کو سنا، انہوں نے ابوہشام رفاعی کو سنا، انہوں نے ابوبکر بن عیاش کو سنا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے ابواسحاق پر جھوٹ نہیں باندھا، اور میں نہیں سمجھتا کہ ابواسحاق نے ابو وائل پر جھوٹ بولا ہو، اور نہ ہی میں یہ سمجھتا ہوں کہ ابو وائل نے سیدنا عبداللہ بن مسعود پر جھوٹ بولا ہو۔ اسے امام ثوری نے بھی ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ اس سیاق کے ساتھ ’منکر‘ ہے؛
فنی نکتہ / علّت: اس کی علت ابو ہشام الرفاعی (محمد بن یزید بن محمد) ہیں، وہ قوی نہیں ہیں، اور وہ اس میں ’قبر‘ کا ذکر کرنے میں منفرد ہیں۔ ان کی مخالفت ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی "مصنف" 3/ 213 میں کی ہے، چنانچہ انہوں نے اسے ابو بکر بن عیاش سے قبر کے ذکر کے بغیر روایت کیا ہے، جیسا کہ سفیان ثوری کی ابو اسحاق سے اگلی روایت (جو مصنف کے ہاں ہے) میں ہے۔ اور آیت کی صراحت بھی روزِ قیامت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
وأما حديث أبي هشام الرفاعي فقد أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 37/ 329 من طريق جعفر بن محمد الجروي، عن أبي هشام الرفاعي، به.
حوالہ / مصدر: رہی ابو ہشام الرفاعی کی حدیث، تو اسے ابن عساکر نے "تاريخ دمشق" 37/ 329 میں جعفر بن محمد الجروی کے طریق سے، انہوں نے ابو ہشام الرفاعی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔