کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آیت “تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی” کی تشریح
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد ابن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [آل عمران: 110]، قال: هم الذين هاجَرُوا مع رسول الله ﷺ من مكَّة إلى المدينة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3160 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3160 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [سورة آل عمران: 110] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أبو مُسلِم إبراهيم ابن عبد الله، حدثنا حجَّاج بن نُصَير، حدثنا أبو أُميَّة بن يعلى الثَّقَفي قال: سمعتُ موسى بنَ عُقْبة، وتلا قولَ الله ﷿: ﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [آل عمران: 133]، قال: حدثني إسحاق بن يحيى بن طَلْحة القرشي، عن عُبادةَ بن الصامت، عن أُبيِّ بن كعب، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن سَرَّه أَن يُشْرَفَ له البُنيانُ، وتُرفَعَ له الدرجات، فليَعفُ عمَّن ظَلَمَه، ويُعطِ من حَرَمَه، ويَصِلْ من قَطَعَه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3161 - أبو أمية ضعفه الدارقطني وإسحاق لم يدرك عبادة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3161 - أبو أمية ضعفه الدارقطني وإسحاق لم يدرك عبادة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ عزوجل کے اس فرمان ﴿وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”اور اپنے رب کی مغفرت کی طرف دوڑو۔“ [سورة آل عمران: 133] کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا: ”جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ (جنت میں) اس کے لیے بلند و بالا عمارتیں بنائی جائیں اور اس کے درجات بلند کیے جائیں، تو اسے چاہیے کہ وہ اسے معاف کر دے جس نے اس پر ظلم کیا، اسے عطا کرے جس نے اسے محروم رکھا اور اس سے تعلق جوڑے جس نے اس سے قطع تعلقی کی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔