المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
خُطْبَةُ أَبِي بَكْرِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی ﷺ کی وفات کے وقت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا خطبہ
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري قال: أخبرني أبو سَلَمة بن عبد الرحمن قال: كان ابن عبَّاس يحدِّث: أنَّ أبا بكر الصِّدِّيق دخل المسجدَ وعمرُ بنُ الخطَّاب يحدِّث الناس، فأَتى البيتَ الذي تُوفِّي فيه رسولُ الله ﷺ، فكَشَفَ عن وجهه بُرْدَ حِبَرةٍ وكان مُسجًّى به، فنظر إليه فأكَبَّ عليه ليقبِّلَ وجهَه، وقال: والله لا يَجمَعُ اللهُ عليك مَوتَتينِ بعد موتتِك التي لا تموتُ بعدَها. ثم خرج إلى المسجد وعمرُ يُكلِّم الناسَ، فقال أبو بكر: اجلِسْ يا عمر، فأَبى، فكلَّمه مرَّتين أو ثلاثًا، فأَبى، فقام فتَشهَّد، فلما قَضَى تشهُّدَه قال: أَمَّا بعدُ، فمن كان يَعبُدُ محمدًا، فإنَّ محمدًا قد مات، ومَن كان يَعبُد اللهَ، فإنَّ الله حيٌّ لا يموت، ثم تلا ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾ [الأنبياء: 34]، ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ تلا إلى ﴿الشَّاكِرِينَ﴾ [آل عمران: 144]، فما هو إِلَّا أَنْ تَلَاها فأيقَنَ الناسُ بموت رسول الله ﷺ، حتى قال قائل: لم يَعلَمِ الناسُ أنَّ هذه الآيةَ أُنزِلت حتى تَلَاها أبو بكر. قال الزُّهْري: فأخبرني سعيد بن المسيّب: أنَّ عمر بن الخطَّاب قال: لمّا تلاها أبو بكر: عَقِرتُ حتى خَرَرتُ إلى الأرض، وأيقَنتُ أنَّ رسول الله ﷺ قد مات (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3162 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے جبکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لوگوں سے گفتگو کر رہے تھے، پس وہ اس حجرے میں تشریف لے گئے جہاں رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تھی، آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے وہ یمنی چادر ہٹائی جس سے آپ ﷺ کو ڈھانپا گیا تھا، پھر آپ ﷺ کو دیکھا اور بوسہ لینے کے لیے آپ ﷺ کے چہرہ انور پر جھک گئے اور کہا: ”اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر اس موت کے بعد جو آپ کو آ چکی ہے، کبھی دوسری موت جمع نہیں فرمائے گا۔“ پھر وہ مسجد کی طرف نکلے جبکہ سیدنا عمر لوگوں سے کلام کر رہے تھے، سیدنا ابوبکر نے فرمایا: ”اے عمر! بیٹھ جاؤ“، انہوں نے انکار کیا، ابوبکر نے دو یا تین بار کہا مگر وہ نہ مانے، چنانچہ ابوبکر کھڑے ہوئے اور تشہد (خطبہ) پڑھا، جب وہ فارغ ہوئے تو فرمایا: ”امابعد! جو شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ جان لے کہ محمد ﷺ وفات پا چکے ہیں، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی“، پھر انہوں نے یہ آیات تلاوت فرمائیں ﴿وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ﴾ [سورة الأنبياء: 34] اور ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ﴾ [سورة آل عمران: 144] «شاكرين» تک، جیسے ہی انہوں نے یہ آیات تلاوت کیں لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی وفات کا یقین آگیا، یہاں تک کہ کہنے والے نے کہا کہ لوگوں کو پتا ہی نہیں تھا کہ یہ آیت نازل ہو چکی ہے یہاں تک کہ ابوبکر نے اسے تلاوت کیا۔ زہری کہتے ہیں کہ مجھے سعید بن مسیب نے بتایا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب ابوبکر نے یہ آیت تلاوت کی تو میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی یہاں تک کہ میں زمین پر گر پڑا اور مجھے یقین ہو گیا کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا چکے ہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق و سباق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
حوالہ / مصدر: اور یہ طویل روایت "مصنف عبدالرزاق" (9755) میں موجود ہے۔
وأخرج القطعة الأولى منه أحمد 5/ (3090) عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اور اس کا پہلا حصہ احمد نے 5/ (3090) میں عبدالرزاق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرج القطعتين الثانية والثالثة منه البخاري (1242) وابن حبان (6620) من طريق عبد الله بن المبارك، عن معمر، به. وقرن بمعمر يونسَ بنَ يزيد، واقتصر البخاري على القطعة الثانية منه.
حوالہ / مصدر: اور اس کا دوسرا اور تیسرا حصہ بخاری نے (1242) اور ابن حبان نے (6620) میں عبداللہ بن مبارک کے طریق سے، انہوں نے معمر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور (راوی نے) معمر کے ساتھ یونس بن یزید کو بھی ملایا ہے، اور بخاری نے صرف اس کے دوسرے حصے پر اکتفا کیا ہے۔
وأخرجهما أيضًا البخاري (4454) من طريق عقيل بن خالد، عن ابن شهاب الزهري، به.
حوالہ / مصدر: اور ان دونوں (حصوں) کو بخاری نے (4454) میں عقیل بن خالد کے طریق سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
والبُرْد الحِبَرَة: ثوب يمانٍ من قطن أو كتّان مخطَّط ملوَّن.
نوٹ / توضیح: "البُرْد الحِبَرَة": یمنی چادر جو روئی یا کتان کی ہوتی ہے، دھاری دار اور رنگین۔
ومسجًّى به، أي: مغطَّى به.
نوٹ / توضیح: "مسجًّى به": یعنی اس سے ڈھانپا ہوا۔
وقول عمر: "عَقِرتُ" أي: خارت قواي فلم تحملني قدماي من شدَّة الصَّدمة.
نوٹ / توضیح: عمر رضی اللہ عنہ کا قول "عَقِرتُ": یعنی میری ٹانگوں نے جواب دے دیا (قوت ختم ہو گئی) اور صدمے کی شدت سے میرے پاؤں مجھے اٹھا نہ سکے۔