المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
شَرْحُ آيَةِ : ( كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ) باب: آیت “تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی” کی تشریح
حدیث نمبر: 3198
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد ابن مِهْران الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سِمَاك بن حَرْب، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [آل عمران: 110]، قال: هم الذين هاجَرُوا مع رسول الله ﷺ من مكَّة إلى المدينة (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3160 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ﴾ [سورة آل عمران: 110] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس سے مراد وہ صحابہ کرام ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل سماك بن حرب. وسيتكرر برقم (7140).
درجۂ حدیث: اس کی سند سماک بن حرب کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (7140) پر مکرر آئے گا۔
وأخرجه أحمد 4 / (2463) و (2926) و (2987) و (3321)، والنسائي (11006) من طرق عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 4/ (2463)، (2926)، (2987) اور (3321) میں، اور نسائی نے (11006) میں اسرائیل کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند سماک بن حرب کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔
تفصیلِ روایت: اور یہ آگے نمبر (7140) پر مکرر آئے گا۔
وأخرجه أحمد 4 / (2463) و (2926) و (2987) و (3321)، والنسائي (11006) من طرق عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 4/ (2463)، (2926)، (2987) اور (3321) میں، اور نسائی نے (11006) میں اسرائیل کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3198 سے ماخوذ ہے۔