کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بدلے ستر ہزار اور ستر ہزار افراد کے قتل کی خبر
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن عبد الله بن إبراهيم بن عمرو البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو يعلى محمد بن شدَّادِ المِسمَعي، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا عبد الله بن حَبيب ابن أبي ثابت، عن أبيه، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: أَوحى الله إلى نبيِّكم ﷺ: إني قتلتُ بيحيى بن زكريا سبعين ألفًا، وإني قاتلٌ بابن ابنتِك سبعين ألفًا وسبعين ألفًا (1). قال الحاكم: قد كنت أحسبُ دهرًا أنَّ المِسمَعي ينفرد بهذا الحديث عن أبي نُعيم حتى:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3147 - المتن منكر جدا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3147 - المتن منكر جدا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کی طرف وحی فرمائی: ”میں نے یحییٰ بن زکریا (کے ناحق قتل) کے بدلے ستر ہزار لوگوں کو ہلاک کیا تھا، اور میں تمہارے نواسے (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ) کے بدلے ستر ہزار اور (مزید) ستر ہزار لوگوں کو قتل کروں گا۔“
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ایک شاہد موجود ہے جو اگرچہ سند اور متن کے لحاظ سے غریب ہے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ایک شاہد موجود ہے جو اگرچہ سند اور متن کے لحاظ سے غریب ہے۔
حدَّثَناه أبو محمد السَّبِيعي الحافظ، حدثنا عبد الله بن محمد بن ناجيَةَ، حدثنا حُمَيد بن الرَّبيع، حدثنا أبو نُعيم، فذكره بإسناده نحوَه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، امام حاکم فرماتے ہیں کہ میں ایک طویل عرصے تک یہ گمان کرتا رہا کہ اس حدیث کو ابونعیم سے روایت کرنے میں مسمعی منفرد ہیں، یہاں تک کہ ابو محمد السبیعی الحافظ نے عبداللہ بن محمد بن ناجیہ سے اور انہوں نے حمید بن ربیع کے واسطے سے ابونعیم سے یہ حدیث ان کی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی۔