کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قرآنِ مجید کے نازل ہونے کا بیان
حدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، حدثنا الحسن بن أحمد بن الليث الرَّازي، حدثنا أبو همَّام بن أبي بَدْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني حَيْوَةُ ابن شُريح، عن عُقَيل بن خالد، عن سَلَمة بن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عَوْف، عن أبيه، عن عبد الله بن مسعود، عن رسول الله ﷺ قال: "كان الكتابُ الأَوَّلَ نَزَل من بابٍ واحد على حرفٍ واحد، ونزل القرآنُ من سبعةِ أبواب على سبعة أحرف: زاجرٍ وآمرٍ، وحلالٍ وحرامٍ ومُحكَمٍ ومتشابِهٍ، وأمثالٍ، فأحِلُّوا حلالَه، وحرِّموا حرامَه، وافعلوا ما أُمِرتُم به، وانتَهُوا عمّا نُهِيتم عنه، واعتبروا بأمثاله، واعمَلوا بمُحكَمِه، وآمنوا بمُتشابهه، وقولوا: ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ [آل عمران: 7] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3144 - منقطع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پہلی کتاب ایک ہی دروازے سے ایک ہی طریقے پر نازل ہوئی تھی، جبکہ قرآن سات دروازوں سے سات حروف یعنی سات اقسام پر نازل ہوا ہے: زجر کرنے والا، حکم دینے والا، حلال، حرام، محکم، متشابہ اور مثالیں، پس اس کے حلال کو حلال جانو، اس کے حرام کو حرام سمجھو، جس کا حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو، جس سے روکا گیا ہے اس سے رک جاؤ، اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو، اس کی محکم آیات پر عمل کرو، اس کی متشابہ آیات پر ایمان لاؤ اور کہو: ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ﴾ ”ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو صرف عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔“ [سورة آل عمران: 7]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3181
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لانقطاعه كما سبق بيانه فيما سلف برقم (2054).» [ترقيم الرساله 3181] [ترقيم الشركة 3162] [ترقيم العلميه 3144]
أخبرني الحسن بن حليم المروزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا حُميد الطويل، عن أنس قال: قرأ عمرُ بن الخطَّاب ﴿وَفَاكِهَةٍ وَأَبًّا﴾ [عبس: 31]، فقال بعضهم هكذا، وقال بعضهم هكذا، فقال عمر: دَعُونا من هذا، ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3145 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آیت ﴿وَفَاكِهَةٍ وَأَبًّا﴾ [سورة عبس: 31] کی تلاوت کی، تو بعض لوگوں نے اس کی تفسیر میں مختلف آراء دیں، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمیں ان (غیر ضروری بحثوں) سے دور رہنے دو، (ہمارا کام تو یہ کہنا ہے کہ) ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾ ”ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3182
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو الموجّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 3182] [ترقيم الشركة 3163] [ترقيم العلميه 3145]