حدیث نمبر: 3182
أخبرني الحسن بن حليم المروزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا حُميد الطويل، عن أنس قال: قرأ عمرُ بن الخطَّاب ﴿وَفَاكِهَةٍ وَأَبًّا﴾ [عبس: 31]، فقال بعضهم هكذا، وقال بعضهم هكذا، فقال عمر: دَعُونا من هذا، ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3145 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آیت ﴿وَفَاكِهَةٍ وَأَبًّا﴾ [سورة عبس: 31] کی تلاوت کی، تو بعض لوگوں نے اس کی تفسیر میں مختلف آراء دیں، اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہمیں ان (غیر ضروری بحثوں) سے دور رہنے دو، (ہمارا کام تو یہ کہنا ہے کہ) ﴿آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا﴾ ”ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔“
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3182
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، أبو الموجّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.» [ترقيم الرساله 3182] [ترقيم الشركة 3163] [ترقيم العلميه 3145]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو الموجّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو الموجه سے مراد ’محمد بن عمرو الفزاری‘ ہیں، عبدان سے مراد ’عبداللہ بن عثمان المروزی‘ ہیں، اور عبداللہ سے مراد ’ابن مبارک‘ ہیں۔
وانظر ما سيأتي برقم (3941) من حديث يزيد بن هارون عن حميد.
تفصیلِ روایت: اور دیکھیے جو آگے نمبر (3941) پر یزید بن ہارون عن حمید کی حدیث سے آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3182 سے ماخوذ ہے۔