کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آیت “کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے نکلے” کے نازل ہونے کا سبب
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وكيع، حدثنا سفيان عن مَيسَرة النَّهْدي، عن المِنهال ابن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ [البقرة:243] قال: كانوا أربعة آلاف، خرجوا فرارًا من الطاعون وقالوا: نأتي أرضًا ليس بها موتٌ، فقال لهم الله: مُوتُوا، فماتوا، فمَرَّ بهم نبيٌّ، فسأل الله أن يُحيِيَهم فأحياهم، فهم الذين قال الله ﷿: ﴿وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3113 - ميسرة لم يرويا له
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3113 - ميسرة لم يرويا له
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ [سورة البقرة: 243] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: وہ چار ہزار لوگ تھے جو طاعون کے خوف سے (اپنے گھروں سے) یہ کہہ کر نکلے تھے کہ ہم ایسی سرزمین میں جائیں گے جہاں موت نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ”مر جاؤ“، پس وہ سب مر گئے، پھر ان کے پاس سے ایک نبی کا گزر ہوا، انہوں نے اللہ سے ان کے زندہ ہونے کی دعا کی تو اللہ نے انہیں دوبارہ زندگی دے دی، پس یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ وہ موت کے ڈر سے (نکلنے والے) ہزاروں لوگ تھے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا معاذ بن هشام، صاحب الدَّستُوائي، حدثنا أَبي، عن قَتَادة، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: ما تَعجَبُون أن تكون الخُلَّةُ لإبراهيمَ، والكلامُ لموسى، والرؤيةُ لمحمدٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3114 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3114 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم اس بات پر کیوں تعجب کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لیے دوستی («خُلت»)، سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے لیے کلام اور سیدنا محمد ﷺ کے لیے (اپنا) دیدار اور رؤیت کو خاص فرمایا؟“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔