حدیث نمبر: 3150
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وكيع، حدثنا سفيان عن مَيسَرة النَّهْدي، عن المِنهال ابن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ [البقرة:243] قال: كانوا أربعة آلاف، خرجوا فرارًا من الطاعون وقالوا: نأتي أرضًا ليس بها موتٌ، فقال لهم الله: مُوتُوا، فماتوا، فمَرَّ بهم نبيٌّ، فسأل الله أن يُحيِيَهم فأحياهم، فهم الذين قال الله ﷿: ﴿وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3113 - ميسرة لم يرويا له
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ [سورة البقرة: 243] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: وہ چار ہزار لوگ تھے جو طاعون کے خوف سے (اپنے گھروں سے) یہ کہہ کر نکلے تھے کہ ہم ایسی سرزمین میں جائیں گے جہاں موت نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا: ”مر جاؤ“، پس وہ سب مر گئے، پھر ان کے پاس سے ایک نبی کا گزر ہوا، انہوں نے اللہ سے ان کے زندہ ہونے کی دعا کی تو اللہ نے انہیں دوبارہ زندگی دے دی، پس یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ وہ موت کے ڈر سے (نکلنے والے) ہزاروں لوگ تھے۔
یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3150
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي.
تخریج حدیث «إسناده قوي. سفيان هو الثوري.» [ترقيم الرساله 3150] [ترقيم الشركة 3131] [ترقيم العلميه 3113]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده قوي. سفيان هو الثوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’قوی‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 2/ 586، والضياء المقدسي في "المختارة" 10/ (405) من طريقين عن وكيع، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 2/ 586 میں، اور ضیاء المقدسی نے "المختارة" 10/ (405) میں وکیع سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبري أيضًا 2/ 586 من طريق أبي أحمد الزبيري، عن سفيان، به.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے ہی 2/ 586 میں ابو احمد الزبیری کے طریق سے، انہوں نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3150 سے ماخوذ ہے۔