حدثني أبو الحسين محمد بن محمد بن يعقوب الحافظ المقرئ، حدثنا أبو القاسم العبَّاس بن الفضل بن شاذانَ المقرئ، حدثنا إبراهيم بن مِهرانَ الأَيْلي، حدثنا مِهرانُ بن داود بن مِهران المقرئ، حدثنا عبد الله بن أُذَينة الطائي، عن موسى بن عُبيدة، عن نافع، عن ابن عمر قال: ما هَمَزَ رسولُ الله ﷺ ولا أبو بكر ولا عمرُ، ولا الخلفاءُ، وإنما الهمزُ بِدْعةٌ ابتَدَعوها مَن بَعدَهم (1).
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نہ رسول اللہ ﷺ نے (لفظِ نبی وغیرہ میں) کبھی ہمزہ پڑھا، نہ ابوبکر نے، نہ عمر نے اور نہ ہی دیگر خلفاء نے، بلکہ (ایسے کلمات میں) ہمزہ پڑھنا تو ایک بدعت ہے جو ان کے بعد کے لوگوں نے ایجاد کی ہے۔ (یاد رہے کہ اس کی سند کے ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ کے بارے میں امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی اور عبد الرحمن بن زیاد افریقی کی حدیث نہیں لکھتا کیونکہ وہ ضعیف ہیں)۔
سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني الحافظ، يقول: سمعت أبا زكريا يحيى بن محمد بن يحيى يقول: سمعت أحمد بن حَنبَل يقول: لا أكتبُ حديثَ موسى بن عُبيدة الرَّبذِي ولا حديثَ عبد الرحمن بن زياد الأَفريقي.
ابو عبداللہ محمد بن یعقوب الشیبانی الحافظ، ابوزکریا یحییٰ بن محمد بن یحییٰ سے اور وہ امام احمد بن حنبل سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نہ تو موسیٰ بن عبیدہ الربذی کی حدیث لکھتا ہوں اور نہ ہی عبد الرحمن بن زیاد الافریقی کی حدیث (بطور حجت) تحریر کرتا ہوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ اسناد: یہ سند "واہی" (انتہائی کمزور) ہے۔ عبداللہ بن اذینہ (جو عبداللہ بن عطارد بن اذینہ ہیں) کے بارے میں ابن عدی نے کہا: "منکر الحدیث" ہے، دارقطنی نے کہا: "متروک الحدیث" ہے، اور حاکم و نقاش نے (جیسا کہ لسان المیزان میں ہے) اس پر "موضوع" (من گھڑت) احادیث روایت کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اور موسیٰ بن عبیدہ الربذی کے ضعف پر اتفاق ہے اور ذہبی نے تلخیص المستدرک میں اسے "واہی" قرار دیا۔ اور ابراہیم بن مہران اور مہران بن داود کے حالات (تراجم) ہمیں نہیں ملے۔