حدیث نمبر: 2943
حدثني أبو الحسين محمد بن محمد بن يعقوب الحافظ المقرئ، حدثنا أبو القاسم العبَّاس بن الفضل بن شاذانَ المقرئ، حدثنا إبراهيم بن مِهرانَ الأَيْلي، حدثنا مِهرانُ بن داود بن مِهران المقرئ، حدثنا عبد الله بن أُذَينة الطائي، عن موسى بن عُبيدة، عن نافع، عن ابن عمر قال: ما هَمَزَ رسولُ الله ﷺ ولا أبو بكر ولا عمرُ، ولا الخلفاءُ، وإنما الهمزُ بِدْعةٌ ابتَدَعوها مَن بَعدَهم (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نہ رسول اللہ ﷺ نے (لفظِ نبی وغیرہ میں) کبھی ہمزہ پڑھا، نہ ابوبکر نے، نہ عمر نے اور نہ ہی دیگر خلفاء نے، بلکہ (ایسے کلمات میں) ہمزہ پڑھنا تو ایک بدعت ہے جو ان کے بعد کے لوگوں نے ایجاد کی ہے۔ (یاد رہے کہ اس کی سند کے ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ کے بارے میں امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ میں موسیٰ بن عبیدہ ربذی اور عبد الرحمن بن زیاد افریقی کی حدیث نہیں لکھتا کیونکہ وہ ضعیف ہیں)۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2943
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ
تخریج حدیث «إسناده واهٍ، عبد الله بن أذينة - وهو عبد الله بن عطارد بن أذينة - قال ابن عدي: منكر الحديث، وقال الدارقطني: متروك الحديث، واتهمه الحاكم والنقاش - كما في "لسان الميزان" - بأنه روى أحاديث موضوعة، وموسى بن عبيدة الرَّبَذي متفق على ضعفه ووهّاه الذهبي في "تلخيص المستدرك"، وإبراهيم ...» [ترقيم الرساله 2943] [ترقيم الشركة 2925]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده واهٍ، عبد الله بن أذينة - وهو عبد الله بن عطارد بن أذينة - قال ابن عدي: منكر الحديث، وقال الدارقطني: متروك الحديث، واتهمه الحاكم والنقاش - كما في "لسان الميزان" - بأنه روى أحاديث موضوعة، وموسى بن عبيدة الرَّبَذي متفق على ضعفه ووهّاه الذهبي في "تلخيص المستدرك"، وإبراهيم بن مهران ومهران بن داود لم نقف على ترجمتهما.
درجۂ اسناد: یہ سند "واہی" (انتہائی کمزور) ہے۔ عبداللہ بن اذینہ (جو عبداللہ بن عطارد بن اذینہ ہیں) کے بارے میں ابن عدی نے کہا: "منکر الحدیث" ہے، دارقطنی نے کہا: "متروک الحدیث" ہے، اور حاکم و نقاش نے (جیسا کہ لسان المیزان میں ہے) اس پر "موضوع" (من گھڑت) احادیث روایت کرنے کا الزام لگایا ہے۔ اور موسیٰ بن عبیدہ الربذی کے ضعف پر اتفاق ہے اور ذہبی نے تلخیص المستدرک میں اسے "واہی" قرار دیا۔ اور ابراہیم بن مہران اور مہران بن داود کے حالات (تراجم) ہمیں نہیں ملے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2943 سے ماخوذ ہے۔