کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قرآن مجید کو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمانِ دنیا پر نازل کیا گیا
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: أَنزل اللهُ القرآنَ إلى السماء الدنيا في ليلة القَدْر، وكان الله إذا أراد أن يُوحَى منه شيءٌ، أَوحاه، أو يَحدُثَ منه في الأرض شيءٌ، أحدَثَه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2877 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو شبِ قدر میں آسمانِ دنیا کی طرف (ایک ساتھ) نازل فرمایا، پھر اللہ تعالیٰ جب بھی اس میں سے کسی چیز کی وحی کرنا چاہتا تو اس کی وحی فرما دیتا، یا زمین میں کوئی نیا واقعہ رونما کرنا چاہتا تو اسے صادر فرما دیتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2913
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 2913] [ترقيم الشركة 2895] [ترقيم العلميه 2877]
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو بكر وعثمان ابنا أبي شَيْبة، حدثنا جَرِير، عن منصور، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾، قال: أُنزِلَ القرآنُ جُمْلةً واحدةً في ليلة القَدْر إلى سماءِ الدنيا، وكان بمَوقِع النجوم، وكان الله يُنزِل على رسوله ﷺ بعضَه في إثْرِ بعضٍ، قال: وقالوا: ﴿لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا﴾ [الفرقان: 32] (3). صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2878 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ [سورة القدر: 1] کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا: قرآن کریم شبِ قدر میں آسمانِ دنیا کی طرف ایک ہی بار مکمل طور پر نازل کر دیا گیا تھا اور یہ ستاروں کی منزلوں کی ترتیب پر تھا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر حسبِ ضرورت اس کا بعض حصہ پے در پے نازل فرماتا رہا، راوی کہتے ہیں کہ کفار نے کہا: ﴿لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا﴾ [سورة الفرقان: 32] ”اس پر قرآن ایک ہی بار مکمل کیوں نازل نہ کر دیا گیا؟ (اے نبی!) ہم نے ایسا اس لیے کیا تاکہ اس کے ذریعے آپ کے دل کو ثابت قدم رکھیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر نازل کیا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2914
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، جرير: هو ابن عبد الحميد، ومنصور: هو ابن المعتمر.- وأخرجه النسائي (11625) عن محمد بن قُدامة، عن جرير، بهذا الإسناد. وانظر ما سيأتي برقم (2917) و (3823) و (4002) و (4003).» [ترقيم الرساله 2914] [ترقيم الشركة 2896] [ترقيم العلميه 2878]
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا داود بن أبي هِنْد، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: أَنزل اللهُ القرآنَ جملةً واحدةً إلى السماءِ (1) الدنيا ليلةَ القَدْر، ثم أُنزِلَ بعدَ ذلك بعشرين سنة: ﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ [الفرقان: 33]؛ ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ [الإسراء: 106] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2879 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شبِ قدر میں قرآن کریم کو آسمانِ دنیا کی طرف ایک ہی بار مکمل طور پر نازل فرمایا، پھر اس کے بعد بیس سالوں کے عرصے میں (تدریجاً) نازل کیا گیا: ﴿وَلَا يَأْتُونَكَ بِمَثَلٍ إِلَّا جِئْنَاكَ بِالْحَقِّ وَأَحْسَنَ تَفْسِيرًا﴾ [سورة الفرقان: 33] ”اور وہ آپ کے پاس کوئی ایسی مثال نہیں لائیں گے مگر یہ کہ ہم آپ کے پاس حق اور بہترین وضاحت لے آئیں گے“؛ نیز فرمایا: ﴿وَقُرْآنًا فَرَقْنَاهُ لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ وَنَزَّلْنَاهُ تَنْزِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 106] ”اور ہم نے قرآن کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا تاکہ آپ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سنائیں اور ہم نے اسے تدریجاً اتارا ہے“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2915
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 2915] [ترقيم الشركة 2897] [ترقيم العلميه 2879]
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني سليمان بن المغيرة البَكْري، عن ثابت البُنَاني، عن عبد الله بن رَبَاح الأنصاري، عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ إذا أُوحِيَ إليه لم يَستطِعْ أحدٌ منا يَرفَعُ طَرْفَه إليه حتى ينقضيَ الوحيُ (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2880 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو ہم میں سے کوئی بھی اس وقت تک آپ ﷺ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں کر پاتا تھا جب تک کہ وحی کا سلسلہ ختم نہ ہو جاتا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2916
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،» [ترقيم الرساله 2916] [ترقيم الشركة 2898] [ترقيم العلميه 2880]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو طاهر الزُّبيري (1) محمد بن عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن حسَّان بن حُريث، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: فُصِلَ القرآنُ من الذِّكْر فوُضِعَ في بيت العِزَّة في السماء الدنيا، فجعل جبريل ﵇ يُنزِّله على النبي ﷺ يُرتِّلُه ترتيلًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2881 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قرآن کریم کو ذکر (لوحِ محفوظ) سے جدا کر کے آسمانِ دنیا میں بیت العزت میں رکھا گیا، پھر جبریل علیہ السلام اسے نبی کریم ﷺ پر ٹھہر ٹھہر کر اور ترتیب سے نازل کرتے رہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2917
درجۂ حدیث محدثین: خبر موقوف وهو صحيح
تخریج حدیث «خبر موقوف وهو صحيح، وأبو طاهر الزبيري لم نقف على ترجمته حتى تتبيَّن حاله، لكنه لم ينفرد به، فقد روي هذا عن سفيان - وهو الثوري - من غير وجه، منها رواية أبي حذيفة النهدي عنه وذلك فيما سيأتي عند المصنف برقم (4262)، وكذا روي من غير وجه عن الأعمش.» [ترقيم الرساله 2917] [ترقيم الشركة 2899] [ترقيم العلميه 2881]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا المعتمِر بن سليمان، عن محمد بن عمرو بن عَلقَمة، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "مِراءٌ في القرآنِ كفرٌ" (1). تابَعَه عمرُ بن أَبي سَلَمة عن أبيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2882 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرآن کے بارے میں جھگڑنا کفر ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2918
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن عمرو بن علقمة، وقد توبع.» [ترقيم الرساله 2918] [ترقيم الشركة 2900] [ترقيم العلميه 2882]