المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
أُنْزِلَ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا باب: قرآن مجید کو لیلۃ القدر میں ایک ساتھ آسمانِ دنیا پر نازل کیا گیا
حدیث نمبر: 2913
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى، حدثنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: أَنزل اللهُ القرآنَ إلى السماء الدنيا في ليلة القَدْر، وكان الله إذا أراد أن يُوحَى منه شيءٌ، أَوحاه، أو يَحدُثَ منه في الأرض شيءٌ، أحدَثَه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2877 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو شبِ قدر میں آسمانِ دنیا کی طرف (ایک ساتھ) نازل فرمایا، پھر اللہ تعالیٰ جب بھی اس میں سے کسی چیز کی وحی کرنا چاہتا تو اس کی وحی فرما دیتا، یا زمین میں کوئی نیا واقعہ رونما کرنا چاہتا تو اسے صادر فرما دیتا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه النسائي (7936) من طريق يزيد بن زريع، عن داود بن أبي هند، بهذا الإسناد.
حوالہ / تخریج: اسے نسائی (7936) نے یزید بن زریع عن داود بن ابی ہند کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (2912) و (2915) و (2917) و (3430) و (3823) و (4002) و (4003) و (4262).
حوالہ: آگے آنے والے نمبر (2912)، (2915)، (2917)، (3430)، (3823)، (4002)، (4003) اور (4262) بھی دیکھیں۔
درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه النسائي (7936) من طريق يزيد بن زريع، عن داود بن أبي هند، بهذا الإسناد.
حوالہ / تخریج: اسے نسائی (7936) نے یزید بن زریع عن داود بن ابی ہند کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (2912) و (2915) و (2917) و (3430) و (3823) و (4002) و (4003) و (4262).
حوالہ: آگے آنے والے نمبر (2912)، (2915)، (2917)، (3430)، (3823)، (4002)، (4003) اور (4262) بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2913 سے ماخوذ ہے۔