حدیث نمبر: 2914
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا أبو بكر وعثمان ابنا أبي شَيْبة، حدثنا جَرِير، عن منصور، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾، قال: أُنزِلَ القرآنُ جُمْلةً واحدةً في ليلة القَدْر إلى سماءِ الدنيا، وكان بمَوقِع النجوم، وكان الله يُنزِل على رسوله ﷺ بعضَه في إثْرِ بعضٍ، قال: وقالوا: ﴿لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا﴾ [الفرقان: 32] (3). صحيح على شرطهما، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2878 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ [سورة القدر: 1] کی تفسیر میں انہوں نے فرمایا: قرآن کریم شبِ قدر میں آسمانِ دنیا کی طرف ایک ہی بار مکمل طور پر نازل کر دیا گیا تھا اور یہ ستاروں کی منزلوں کی ترتیب پر تھا، پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر حسبِ ضرورت اس کا بعض حصہ پے در پے نازل فرماتا رہا، راوی کہتے ہیں کہ کفار نے کہا: ﴿لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا﴾ [سورة الفرقان: 32] ”اس پر قرآن ایک ہی بار مکمل کیوں نازل نہ کر دیا گیا؟ (اے نبی!) ہم نے ایسا اس لیے کیا تاکہ اس کے ذریعے آپ کے دل کو ثابت قدم رکھیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر نازل کیا ہے“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 2914
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، جرير: هو ابن عبد الحميد، ومنصور: هو ابن المعتمر.- وأخرجه النسائي (11625) عن محمد بن قُدامة، عن جرير، بهذا الإسناد. وانظر ما سيأتي برقم (2917) و (3823) و (4002) و (4003).» [ترقيم الرساله 2914] [ترقيم الشركة 2896] [ترقيم العلميه 2878]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح. جرير: هو ابن عبد الحميد، ومنصور: هو ابن المعتمر.

وأخرجه النسائي (11625) عن محمد بن قُدامة، عن جرير، بهذا الإسناد. وانظر ما سيأتي برقم (2917) و (3823) و (4002) و (4003).

درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔ جریر سے مراد "ابن عبدالحمید" ہیں اور منصور سے مراد "ابن المعتمر" ہیں۔
حوالہ / تخریج: اسے نسائی (11625) نے محمد بن قدامہ عن جریر کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (اگلے حوالہ جات بھی دیکھیں)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2914 سے ماخوذ ہے۔