کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: غلام آزاد کرنے کے آداب میں سے ہے کہ پہلے مرد کو آزاد کیا جائے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد بن حاتم، حدثنا عُبيد الله بن عبد المجيد الحَنَفي، حدثنا عُبيد الله بن عبد الرحمن بن مَوهَب، عن القاسم، عن عائشة: أنها أرادت أن تُعتِقَ مملُوكَين؛ زَوجٌ، فسألتِ النبيَّ ﷺ، فأمرَها أن تبدأَ بالرجلِ قبلَ المرأة (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2827 - عبيد الله هذا اختلف في توثيقه ولم يخرجا له
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2827 - عبيد الله هذا اختلف في توثيقه ولم يخرجا له
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شادی شدہ غلام جوڑے کو آزاد کرنے کا ارادہ کیا اور نبی کریم ﷺ سے دریافت فرمایا، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ (آزادی کی) ابتدا عورت سے پہلے مرد سے کریں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني أبي، حدثني رافع بن سِنان: أنه أسلمَ وأبَتِ امرأتُه أن تُسلِم، فأتتِ النبيَّ ﷺ، فقالت: ابنتي فَطِيمٌ، وقال رافع: ابنتي، فقال النبي ﷺ لِرافع: "اقعُدْ ناحِيةً" وقال لامرأته: "اقعُدي ناحيةً"، قال: وأقعَدَ الصَّبِيّةَ (3) بينهما، ثم قال: "ادعُواها" فمالَتْ الصَّبِيّة إلى أمها، فقال النبي ﷺ: "اللهم اهْدِها"، فمالَتْ إلى أبيها، فأخذها (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2828 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2828 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا جبکہ ان کی بیوی نے اسلام لانے سے انکار کر دیا، وہ دونوں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عورت نے کہا: میری بیٹی کا دودھ چھڑا دیا گیا ہے (یعنی وہ اب مجھ سے مانوس ہے)، جبکہ رافع نے کہا: یہ میری بیٹی ہے، تو نبی کریم ﷺ نے رافع سے فرمایا: ”تم ایک طرف بیٹھ جاؤ“ اور ان کی بیوی سے فرمایا: ”تم دوسری طرف بیٹھ جاؤ“، پھر آپ ﷺ نے بچی کو ان دونوں کے درمیان بٹھا دیا اور فرمایا: ”تم دونوں اسے پکارو“، بچی اپنی ماں کی طرف مائل ہونے لگی تو نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اهْدِهَا» ”اے اللہ! اس کی رہنمائی فرما“، چنانچہ وہ (فوری طور پر) اپنے والد کی طرف مائل ہو گئی اور انہوں نے اسے لے لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔