کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اگر غلام نے اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو وہ زانی شمار ہوگا
أخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه، قال: قُرئ على عبد الملك بن محمد وأنا أسمع، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثني أبي، حدثنا القاسم بن عبد الواحد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا تَزوّج العبدُ بغير إذنِ سيّده، كان عاهرًا" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2787 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2787 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیتا ہے تو وہ بدکار (عاہر) ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أحمد بن محمد بن نصر، حدثنا أبو نُعيم وأبو غسان، قالا: حدثنا شَريك، عن أبي رَبيعة الإيادِي، عن ابن بُريدة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ لعَليّ: "يا عليُّ، لا تُتْبعِ النَّظْرةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّ لك الأُولى وليست لك الآخرةُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2788 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2788 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے علی! ایک نظر کے پیچھے دوسری نظر نہ ڈالنا، کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے (معاف) ہے لیکن دوسری نظر کا تمہیں حق نہیں ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا مِسكين بن بُكير، حدثنا شعبة، عن يزيد بن خُمَير، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه، عن أبي الدرداء: أنَّ رسول الله ﷺ كان في غزوة، فرأى امرأةً مُجِحَّة (1)، فقال: "لعلَّ صاحبَها ألَمَّ بها؟ " قالوا: نعم، قال: "لقد هَمَمتُ أن أَلْعنَه لعنةً تدخلُ معه في قبرِه، كيف يُورِّثه وهو لا يَحِلُّ له، وكيف يَستخدِمُه وهو لا يَحِلُّ له" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2789 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2789 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک غزوے میں تھے، آپ ﷺ نے ایک ایسی عورت کو دیکھا جو حاملہ (بچہ جننے کے قریب) تھی، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”شاید اس کے مالک نے اس سے قربت کی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرا ارادہ ہوا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر میں داخل ہو، وہ اسے (اپنی جائیداد کا) وارث کیسے بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں، اور وہ اس سے خدمت کیسے لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں (یعنی عدتِ استبراء سے پہلے قربت کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے کے نسب میں شبہ پیدا ہو گیا)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناهُ إسماعيلُ بن محمد بن الفضل، حدثنا جدي، حدثنا عمرو بن عَون، حدثنا شَريك، عن قيس بن وهب، عن أبي الوَدّاك، عن أبي سعيد الخُدْري، رفعه، أنه قال في سبايا أَوطاسٍ: "لا تُوطأُ حاملٌ حتى تَضَعَ، ولا غيرُ ذاتِ حَمْل حتى تَحيضَ حَيضة" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2790 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2790 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے غزوہ اوطاس کی قیدی عورتوں کے بارے میں مرفوعاً بیان کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی حاملہ عورت سے اس وقت تک قربت نہ کی جائے جب تک وہ بچہ نہ جن دے، اور جو حاملہ نہ ہو اس سے تب تک (قربت نہ کی جائے) جب تک اسے ایک حیض نہ آ جائے (تاکہ رحم کے خالی ہونے کا یقین ہو جائے)۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔