کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا بیان
أخبرنا مَخْلَد (2) بن جعفر الباقَرْحِيّ، حدثنا محمد بن جَرير (3)، حدثنا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُموي، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن عمرو بن علقمة، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن بن حاطب، عن عائشة قالت: لما تُوفِّيَت خديجةُ قالت خولة بنت حكيم بنِ أُميّة بن الأَوْقَص امرأة عثمان بن مَظْعُون، وذلك بمكة: أيْ رسولَ الله، ألا تَزَوَّجُ؟ قال: "ومَن؟ " قالت: إن شئت بِكرًا، وإن شئت ثيِّبًا، قال: "ومَن البِكرُ؟ " قالت: ابنةُ أحبِّ خلق الله إليك، عائشةُ بنت أبي بكر، قال: "ومَن الثيِّبُ؟ " قالت: سَوْدَةُ بنت زَمْعة بن قيس، قد آمنتْ بك واتبعتْك على ما أنتَ عليه، قال: "فاذهبي فاذكُرِيهما"، فجاءت فدخلتْ بيت أبي بكر، فقالت: يا أبا بكر، ماذا أدخلَ اللهُ عليك من الخير والبَرَكة، أرسلَني رسولُ الله ﷺ أخطُبُ عليه عائشةَ، قال: ادعِي لي رسولَ الله ﷺ، فدعَتْه، فجاء فأنكحه، وهي يومئذٍ ابنةُ سبع سنين (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2704 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو مکہ میں عثمان بن مظعون کی اہلیہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے رسول اللہ! کیا آپ نکاح نہیں کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس سے؟“ انہوں نے عرض کیا: اگر آپ چاہیں تو کنواری سے اور چاہیں تو بیوہ سے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کنواری کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: اللہ کی مخلوق میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب شخص کی بیٹی عائشہ بنت ابی بکر، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اور بیوہ کون ہے؟“ عرض کیا: سودہ بنت زمعہ بن قیس، جو آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی لائی ہوئی شریعت کی اتباع کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور ان دونوں سے میرا تذکرہ کرو“ پس وہ آئیں اور ابوبکر کے گھر داخل ہوئیں اور کہا: اے ابوبکر! اللہ آپ کے لیے کتنی خیر اور برکت لایا ہے، مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا ہے کہ میں ان کے لیے عائشہ کا پیغامِ نکاح دوں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کو میرے پاس بلا لاؤ، پس انہوں نے آپ ﷺ کو بلایا، آپ ﷺ تشریف لائے تو انہوں نے نکاح کر دیا، اور اس وقت عائشہ سات سال کی تھیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2738
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة.» [ترقيم الرساله 2738] [ترقيم الشركة 2719] [ترقيم العلميه 2704]
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرْو، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم الباشاني، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، حدثنا الحسين بن واقِد، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه قال: خطب أبو بكر وعمرُ فاطمةَ، فقال رسول الله ﷺ: "إنَّها صغيرة"، فخطبها عليٌّ فزَوَّجَها (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2705 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے نکاح کا پیغام دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ ابھی چھوٹی ہے“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیغام دیا تو آپ ﷺ نے ان سے نکاح کر دیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب النكاح / حدیث: 2739
درجۂ حدیث محدثین: حديث قوي
تخریج حدیث «حديث قوي، وهذا إسناد حسن، محمد بن موسى بن حاتم حسن الحديث كما بيناه عند الحديث (127)، وقد توبع، وأخرجه النسائي (5310)، وابن حبان (6948) من طريق الحسين بن حُريث، عن الفضل بن موسى، عن الحسين بن واقد، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2739] [ترقيم الشركة 2720] [ترقيم العلميه 2705]