کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو تلوار کھینچ لے پھر واپس رکھ دے اس کا خون رائیگاں ہے
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّريّ بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا وُهَيب، عن معمر بن راشد، عن عبد الله بن طاووس، عن أبيه، عن ابن الزُّبَير، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن شَهَرَ سيفَه ثم وَضَعَه، فدَمُه هَدْرٌ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2670 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2670 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنی تلوار سونتی (بغاوت یا حملے کے لیے) اور پھر اس سے وار کیا تو اس کا خون رائیگاں ہے (یعنی اس کے قصاص یا دیت کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني يعقوب بن عبد الرحمن، عن عُمارة بن حَزْم، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "كيف بكم وبزمانٍ - أو (1) يُوشِك أن يأتيَ زمانٌ - يُغربَلُ الناسُ غَربلةً، ويَبقى حُثالةٌ من الناس قد مَرِجَتْ عهودُهم وأماناتُهم، واختَلَفوا فكانوا هكذا" وشَبَّك بين أصابعه، قالوا: فكيف بنا يا رسول الله؟ قال: "تأخذون ما تَعرِفون، وتَدَعُون ما تُنكِرون، وتُقبِلون على أمر خاصّتِكم، وتَدَعُون أمرَ عامّتِكم" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. هذا آخر كتاب الجهاد [كتاب النكاح]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2671 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ كِتَابُ النِّكَاحِ
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. هذا آخر كتاب الجهاد [كتاب النكاح]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2671 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ كِتَابُ النِّكَاحِ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا اس وقت - یا قریب ہے کہ وہ وقت آ جائے - جب لوگوں کو اچھی طرح چھان لیا جائے گا (فتنوں کے ذریعے) اور صرف گھٹیا لوگ باقی رہ جائیں گے جن کے عہد و پیمان اور امانتیں بگڑ جائیں گی اور وہ آپس میں اختلاف کریں گے اور وہ اس طرح ہو جائیں گے“ اور آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے دکھایا، صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس وقت ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم پہچانتے ہو (یعنی معروف اور درست ہے) اسے لے لو اور جو تم ناپسند کرتے ہو (یعنی منکر اور غلط ہے) اسے چھوڑ دو، اور اپنے خاص لوگوں (اپنے قریبیوں یا مخصوص دینی معاملات) کی فکر کرو اور عام لوگوں (کے ہجوم اور فتنوں) کے معاملے کو چھوڑ دو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [کتاب النکاح کا آغاز]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [کتاب النکاح کا آغاز]