المستدرك على الصحيحين
كتاب قسم الفيء— قرآن پاک سے مالِ غنیمت کی تقسیم کا حکم ثابت ہے
بَيَانُ سَعَادَةِ الْمَرْءِ وَشَقَاوَتِهِ . باب: آدمی کی سعادت اور بدبختی کا بیان
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثني يحيى بن سليمان الجُعْفي، حدثني ابن وهب، حدثني حُيَيّ، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو: أنَّ رسول الله ﷺ خرج يومَ بدرٍ بثلاث مئةٍ وخمسةَ عشرَ من المُقاتِلة، كما خرج طالُوتُ، فدعا لهم رسول الله ﷺ حين خرج، فقال: "اللهم إنهم حُفاةٌ، فاحمِلْهم، اللهم إنهم عُراةٌ، فاكسُهُم اللهم إنهم جِياعٌ، فأشبِعْهم"، ففتح الله لهم يوم بدر، فانقَلَبوا وما منهم رجلٌ إلّا قد رجع بجَمَل أو جَمَلَين، واكتسَوْا وشَبِعُوا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنگِ بدر کے دن تین سو پندرہ جنگجوؤں کے ساتھ نکلے جیسے (سیدنا) طالوت نکلے تھے، جب رسول اللہ ﷺ روانہ ہوئے تو ان کے لیے دعا فرمائی اور عرض کیا: «اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ حُفَاةٌ، فَاحْمِلْهُمْ، اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ عُرَاةٌ، فَاكْسُهُمُ اللَّهُمَّ إِنَّهُمْ جِيَاعٌ، فَأَشْبِعْهُمْ» ”اے اللہ! یہ لوگ ننگے پاؤں ہیں، تو انہیں سواری عطا فرما، اے اللہ! یہ برہنہ تن ہیں، تو انہیں لباس عطا فرما، اے اللہ! یہ بھوکے ہیں، تو انہیں سیر فرما۔“ چنانچہ اللہ نے انہیں جنگِ بدر کے دن فتح عطا فرمائی، اور وہ اس حال میں واپس ہوئے کہ ان میں سے ہر شخص ایک یا دو اونٹوں کے ساتھ لوٹا، ان کو لباس بھی ملا اور وہ شکم سیر بھی ہوئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے، جیسا کہ سابقہ روایت نمبر (2629) میں گزر چکا ہے۔