حدیث نمبر: 2642
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، أخبرني حَيْوة بن شُرَيح، عن ابن الهادِ، عن شُرَحْبيل بن سعد، عن جابر بن عبد الله، قال: كنا مع رسول الله ﷺ في غزوة خيبر، خَرَجت سريّةٌ فأخذوا إنسانًا معه غنمٌ يرعاها، فجاؤوا به إلى رسول الله ﷺ، فكلَّمه النبيُّ ﷺ ما شاء الله أن يُكَلِّمه، فقال له الرجلُ: إني قد آمنتُ بك وبما جئتَ به، فكيف بالغَنَم يا رسول الله، فإنها أمانةٌ، وهي للناس، الشاةُ والشاتان وأكثرُ من ذلك؟ قال: "احصِبْ وجوهَها تَرجِعْ إلى أهلِها" فأخذَ قَبْضةً من حَصْباء - أو تراب - فرمى به وجُوهَها، فخرجت تَشْتَدُّ حتى دخلتْ كلُّ شاةٍ إلى أهلها، ثم تقدّم إلى الصفّ، فأصابه سهمٌ فقتَلَه ولم يصلِّ لله سجدةً قطُّ، قال رسولُ الله ﷺ: "أدخِلُوه الخِباءَ" فأُدخل خِباءَ رسولِ الله ﷺ، حتى إذا فرغَ رسولُ الله ﷺ دَخَلَ عليه ثم خرج، فقال: "لقد حَسُنَ إسلامُ صاحبِكم، لقد دخلتُ عليه وإن عندَه لَزوجتَين له من الحُورِ العِينِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2609 - بل كان شرحبيل متهما قاله ابن أبي ذؤيب
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں تھے، ایک فوجی دستہ نکلا اور وہ ایک ایسے شخص کو پکڑ لائے جس کے پاس کچھ بکریاں تھیں جنہیں وہ چرا رہا تھا، وہ اسے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے تو نبی کریم ﷺ نے اس سے طویل گفتگو فرمائی، اس شخص نے عرض کیا: میں آپ پر اور اس پیغام پر جو آپ لائے ہیں ایمان لاتا ہوں، لیکن اے اللہ کے رسول! ان بکریوں کا کیا بنے گا کیونکہ یہ امانت ہیں اور لوگوں کی ملکیت ہیں، خواہ ایک دو ہوں یا اس سے زیادہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے چہروں پر کنکریاں مارو، یہ خود ہی اپنے مالکوں کے پاس واپس چلی جائیں گی۔“ چنانچہ اس نے مٹھی بھر کنکریاں —یا مٹی— لی اور ان کے چہروں پر ماری تو وہ دوڑتی ہوئی نکل گئیں یہاں تک کہ ہر بکری اپنے مالک کے گھر داخل ہو گئی۔ پھر وہ شخص جنگی صف میں آگے بڑھا تو اسے ایک تیر لگا جس نے اسے شہید کر دیا حالانکہ اس نے اللہ کے لیے کبھی ایک سجدہ بھی نہیں کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے خیمے میں لے جاؤ۔“ پس اسے رسول اللہ ﷺ کے خیمے میں رکھ دیا گیا، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ (کام سے) فارغ ہوئے تو اس کے پاس تشریف لے گئے، پھر باہر نکل کر فرمایا: ”تمہارے ساتھی کا اسلام بہت عمدہ رہا، میں جب اس کے پاس گیا تو اس کے پاس حورِ عین میں سے اس کی دو بیویاں موجود تھیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب قسم الفيء / حدیث: 2642
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل شرحبيل بن سعد، وقد روي ما يشهد لخبره هذا، وقال الذهبي عن حديثه هذا في "تاريخ الإسلام" 1/ 281: حديث حسن أو صحيح. قلنا: وهذا أحسن من قوله في "تلخيص المستدرك" بأنَّ شرحبيل كان متهمًا، استنادًا إلى قول ابن أبي ذئب فيه، وأخرجه البيهقي ...» [ترقيم الرساله 2642] [ترقيم الشركة 2625] [ترقيم العلميه 2609]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل شرحبيل بن سعد، وقد روي ما يشهد لخبره هذا، وقال الذهبي عن حديثه هذا في "تاريخ الإسلام" 1/ 281: حديث حسن أو صحيح. قلنا: وهذا أحسن من قوله في "تلخيص المستدرك" بأنَّ شرحبيل كان متهمًا، استنادًا إلى قول ابن أبي ذئب فيه.

وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 9/ 143، وفي "دلائل النبوة" 4/ 220 - 221 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.

درجۂ حدیث: یہ روایت (اپنے شواہد کی بنا پر) "صحیح" ہے، البتہ یہ مخصوص سند "شرحبیل بن سعد" کی وجہ سے ضعیف ہے۔
اہم نکتہ: اس خبر کے شواہد مروی ہیں، اسی لیے امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" (1/ 281) میں اسے "حسن یا صحیح" قرار دیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ امام ذہبی کا یہ قول ان کے "تلخیص المستدرک" والے قول سے بہتر ہے جس میں انہوں نے شرحبیل کو (ابن ابی ذئب کے قول کی بنا پر) متہم قرار دیا تھا۔
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (9/ 143) اور "دلائل النبوۃ" (4/ 220-221) میں مصنف (حاکم) کے واسطے سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو القاسم الأصبهاني في "دلائل النبوة" (241) من طريق يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابو القاسم اصبہانی نے "دلائل النبوۃ" (241) میں یونس بن عبد الاعلیٰ عن عبد اللہ بن وہب کی سند سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له مرسل موسى بن عقبة ومرسل عروة بن الزُّبَير عند البيهقي في "الدلائل" 4/ 219 - 220، ورجال مرسل موسى بن عقبة لا بأس بهم.
متابعات و شواہد: اس کی تائید موسیٰ بن عقبہ اور عروہ بن زبیر کی "مرسل" روایات سے ہوتی ہے جو بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (4/ 219-220) میں ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ کی مرسل روایت کے رجال میں کوئی حرج نہیں (وہ معتبر ہیں)۔
ومرسل إسحاق بن يسار المطلبي مولاهم عند ابن الأثير في "أسد الغابة" 1/ 92.
متابعات و شواہد: اس کی ایک اور شاہد اسحاق بن یسار المطلبی کی مرسل روایت ہے جو ابن الاثیر کی "اسد الغابہ" (1/ 92) میں مذکور ہے۔
ويشهد له أيضًا لكن دون قصة الغنم حديث أنس بن مالك المتقدم عند المصنف برقم (2494)، وإسناده صحيح.
متابعات و شواہد: بکریوں کے قصے کے بغیر اس کی تائید حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث سے بھی ہوتی ہے جو مصنف کے ہاں رقم (2494) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2642 سے ماخوذ ہے۔