کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو۔
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن موسى بن عُقْبة، عن سالم أبي النَّضْر مولى عمر بن عُبَيد الله - وكان كاتبًا له - قال: كَتَب إليه عبدُ الله بن أبي أَوفى حينَ خَرَج إلى الحَرُورية كتابًا، فإذا فيه: أنَّ رسول الله ﷺ قال: "أيها الناسُ، لا تَتَمَنَّوا لقاءَ العَدُوِّ، وسَلُوا اللهَ العافيةَ، فإذا لَقيتُموهم فاصبِرُوا، واعلَمُوا أنَّ الجنةَ تحتَ ظِلال السُّيوفِ" (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2413 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2413 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے خارجیوں کی طرف روانگی کے وقت ایک خط لکھا جس میں (یہ درج تھا کہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! دشمن سے مقابلے کی تمنا نہ کرو اور اللہ سے عافیت مانگو، لیکن جب تمہارا ان سے سامنا ہو جائے تو صبر و استقامت دکھاؤ اور جان لو کہ جنت تلواروں کے سایوں کے نیچے ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله الحُسين بن الحَسن الأديب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن زكريا بن أبي مَسَرّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُريح، حدثنا أبو هانئٍ الخَوْلاني، أنه سمع أبا عبد الرحمن الحُبَليّ يقول: سمعتُ عبدَ الله بن عمرو يقول: قال رسول الله ﷺ: "ما من غازِيَةٍ تَغزُو في سَبيلِ الله فيُصيبُون غنيمةً، إلّا تَعجَّلُوا ثُلثَي أجرِهم مِن الآخرة، ويَبقَى لهمُ الثُّلثُ، فإن لم يُصِيبُوا غَنيمةً، تَمَّ لهم أجرُهم" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2414 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2414 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا جو لشکر مالِ غنیمت حاصل کر لیتا ہے، وہ اپنے آخرت کے اجر کا دو تہائی حصہ (دنیا میں ہی) جلدی حاصل کر لیتا ہے اور ان کے لیے ایک تہائی باقی رہ جاتا ہے، اور اگر انہیں غنیمت حاصل نہ ہو، تو ان کا اجر (آخرت کے لیے) مکمل ہو جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني يحيى بن أيوب وسعيد بن أبي أيوب، عن زَبّان بن فائدٍ، عن سَهْل بن مُعاذ بن أنس الجُهَني، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الصلاةَ والصيامَ والذِّكْر، يُضاعَفُ على النفقةِ في سبيل الله بسَبْعِ مئةِ ضِعْفٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2415 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2415 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک نماز، روزہ اور ذکرِ الٰہی کا ثواب اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن محمد بن سُليمان، حدثنا عبد الوهاب بن نَجْدة الحَوْطي، حدثنا بَقيّة بن الوليد، حدثنا عبد الرحمن بن ثابت بن ثَوبان، يرُدُّه إلى مكحول إلى عبد الرحمن بن غَنْم الأشعَري، أنَّ أبا مالك الأشعَري قال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن فَصَلَ في سبيلِ الله، فماتَ أو قُتِلَ فهو شهيدٌ، أو وَقَصَهُ فَرسُه أو بَعِيرُه، أو لَدَغَتْه هامَّةٌ، أو ماتَ على فراشِه بأي حَتْفٍ شاء اللهُ، فإنه شهيدٌ، وإنَّ له الجنّةَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2416 - ابن ثوبان لم يحتج به مسلم وليس بذاك وبقية ثقة وعبد الرحمن بن غنم لم يدركه مكحول فيما أظن
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2416 - ابن ثوبان لم يحتج به مسلم وليس بذاك وبقية ثقة وعبد الرحمن بن غنم لم يدركه مكحول فيما أظن
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں (جہاد کے لیے) نکلا، پھر وہ فوت ہو گیا یا قتل کر دیا گیا تو وہ شہید ہے، یا اسے اس کے گھوڑے یا اونٹ نے گرا کر ہلاک کر دیا، یا اسے کسی زہریلے جانور نے ڈس لیا، یا وہ اپنے بستر پر اپنی طبعی موت مر گیا جس طرح اللہ نے چاہا، تو وہ شہید ہے اور یقیناً اس کے لیے جنت ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن عيسى الحِيْري، حدثنا أحمد بن نَجْدة القرشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أبو هانئ، عن عمرو بن مالك، عن فَضَالةَ بن عُبيد، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "كُلُّ الميتِ يُختَمُ على عَمَلِه إِلَّا المُرابِطَ، فإنه يَنمُو له عَمَلُه إلى يومِ القيامة، ويُؤمَّن من فَتَّان القبرِ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2417 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2417 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مرنے والے کے عمل پر مہر لگا دی جاتی ہے (یعنی عمل ختم ہو جاتا ہے) سوائے مرابط «المُرابِطَ» (سرحد کے پہرے دار) کے، کیونکہ اس کا عمل قیامت کے دن تک اس کے لیے بڑھتا رہتا ہے اور اسے قبر کی آزمائش سے امن دے دیا جاتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔