کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: دین کی اصل اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى الأنطاكي، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن الأعمش، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن ميمون بن أبي شَبيب، عن معاذ بن جبل قال: كُنّا مع رسول الله ﷺ في غزوة تَبُوكَ، فقال لي: "إن شئتَ أنبأتُك برأسِ الأمرِ وعَمُودِه وذِرْوةِ سَنَامِه"، قال: قلتُ: أَجَلْ يا رسول الله، قال: "أما رأسُ الأمرِ فالإسلامُ، وأما عَمُودُه فالصلاةُ، وأما ذِرْوةُ سَنَامِه فالجهادُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2408 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2408 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں تھے، آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں تمام معاملات کی اصل، اس کے ستون اور اس کی بلندی کی چوٹی کے بارے میں خبر دوں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”معاملات کی اصل اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی بلندی کی چوٹی جہاد ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب (1)، أخبرني أبو صَخْر، عن يزيد بن قُسَيط اللَّيثي، عن إسحاق بن سعد بن أبي وقّاص، حدثني أبي: أنَّ عبد الله بن جَحْشٍ قال يوم أُحُدٍ: ألا تأتي ندعُو اللهَ، فخَلَوا في ناحيةٍ، فدعا سعدٌ، قال: يا ربِّ، إذا لَقِينا القومَ غدًا، فلَقِّني رجلًا شديدًا بأسُه، شديدًا حَرْدُه، فأقاتِلُه فيك ويُقاتِلُني، ثم ارزقْني عليه الظَّفَر حتى أقتُلَه وآخُذَ سَلَبَه، فقام عبدُ الله بن جَحْش، ثم قال: اللهم ارزقني غدًا رجلًا شديدًا حَردُه، شديدًا بأسُه، أقاتِلُه فيك ويُقاتِلُني، ثم يأخُذُني فيَجدَعُ أنفي، فإذا لقيتُك غدًا، قلتَ: يا عبدَ الله، فيمَ جُدِعَ أنفُك وأُذنُك؟ فأقول: فِيكَ وفي رسولك، فتقولُ: صدقتَ. قال سعدُ بن أبي وقاص: يا بُنيَّ، كانت دعوةُ عبد الله بن جَحْشٍ خيرًا مِن دعوتي، لقد رأيتُه آخرَ النهارِ، وإنَّ أُذُنَه وأنفَه لَمُعلَّقَانِ في خَيطٍ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2409 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2409 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے (مجھ سے) کہا: ”کیا تم نہیں آؤ گے کہ ہم اللہ سے دعا کریں؟“ چنانچہ وہ ایک کونے میں تنہائی میں چلے گئے، پہلے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی: ”اے میرے رب! جب کل ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو، تو میرا سامنا ایسے شخص سے کروا جو سخت قوت والا اور غصے والا ہو، میں تیری خاطر اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے، پھر تو مجھے اس پر فتح عطا فرما یہاں تک کہ میں اسے قتل کر دوں اور اس کا سامان چھین لوں۔“ پھر سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور دعا کی: ”اے اللہ! کل میرا مقابلہ ایسے شخص سے کروا جو سخت غصے والا اور طاقتور ہو، میں تیری خاطر اس سے لڑوں اور وہ مجھ سے لڑے، پھر وہ مجھے پکڑ لے اور میری ناک اور کان کاٹ دے، تاکہ جب کل (قیامت کے دن) میں تجھ سے ملوں تو تو پوچھے: اے عبداللہ! تمہارے ناک اور کان کس لیے کاٹے گئے؟ تو میں عرض کروں: تیری اور تیرے رسول کی خاطر، تو تو فرمائے: تم نے سچ کہا۔“ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے (اپنے بیٹے سے) فرمایا: اے میرے بیٹے! عبداللہ بن جحش کی دعا میری دعا سے بہتر تھی، میں نے دن کے آخری حصے میں انہیں دیکھا کہ ان کے کان اور ناک ایک دھاگے میں لٹکے ہوئے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔