کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جہاد کے ذریعے اللہ تعالیٰ غم اور پریشانی دور کر دیتا ہے۔
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن سلمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري (2)، عن عبد الرحمن بن عيّاش، عن سليمان بن موسى، عن مكحول، عن أبي أُمامة، عن عُبادة بن الصامت، قال: قال رسول الله ﷺ: "عليكم بالجهادِ في سبيل الله، فإنه بابٌ من أبوابِ الجنّةِ، يُذهِبُ اللهُ به الهَمَّ والغَمَّ" (3) وزاد فيه غيرُه: "وجاهِدُوا في سبيل الله القريبَ والبعيدَ، وأقِيموا حدودَ الله في القريب والبعيد، ولا تأخُذْكم في الله لومةُ لائم" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2404 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2404 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر اللہ کی راہ میں جہاد لازم ہے، کیونکہ یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے، اللہ اس کے ذریعے رنج و غم کو دور فرما دیتا ہے“، اور دیگر راویوں نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے: ”اور اللہ کی راہ میں قریبی اور دور والے سب سے جہاد کرو، اور اللہ کی حدود کو قریبی اور دور والے سب پر قائم کرو، اور اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا محمد بن الحسن القارِزِيّ (2)، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجاج بن مِنْهال، حدثنا حماد سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، قال: قال رسول الله ﷺ: "يُؤتَى بالرجل من أهلِ الجنةِ، فيقول اللهُ له: يا ابنَ آدمَ، كيفَ وجدتَ مَنزلَكَ؟ فيقول: أيْ رَبِّ، خيرَ مَنزلٍ، فيقول: سَلْ وتَمنَّهْ، فيقول: ما أسألُك وأتمنّى؟ أسألُك أن تَرُدَّني إلى الدنيا، فأُقتلَ في سبيلِك عشرَ مَرّاتٍ، لما رَأى مِن فَضْلِ الشهادةِ". قال: ويُؤتى بالرجلِ مِن أهل النار، فيقولُ اللهُ: يا ابن آدم، كيفَ وجدتَ مَنزِلَكَ؟ فيقولُ: أَيْ رَبِّ، شَرَّ مَنزلٍ، فيقول اللهُ ﷿: فتَفْتَدي منه بطِلَاعِ الأرض ذهبًا؟ فيقول: نعم، فيقول: كذبتَ، قد سألتُكَ دونَ ذلك فلم تَفعَلْ (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2405 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2405 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اہلِ جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! بہترین ٹھکانہ ہے، اللہ فرمائے گا: کچھ مانگ اور تمنا کر، وہ عرض کرے گا: میں تجھ سے کیا مانگوں اور کیا تمنا کروں؟ میں تو یہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ میں تیری راہ میں دس مرتبہ شہید کیا جاؤں، کیونکہ اس نے شہادت کی فضیلت دیکھ لی ہوگی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور جہنمیوں میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا تو اللہ فرمائے گا: اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! بدترین ٹھکانہ ہے، تب اللہ عزوجل فرمائے گا: کیا تو اس سے بچنے کے لیے پوری زمین کے برابر سونا فدیے میں دینے کو تیار ہے؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں، تو اللہ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، میں نے تجھ سے اس سے بھی بہت کم اور آسان بات کا مطالبہ کیا تھا لیکن تو نے وہ نہ کیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔