کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ نے شراب، اسے نچوڑنے والے، نچڑوانے والے اور پینے والے سب پر لعنت فرمائی ہے۔
أخبرني أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن أنس القرشي، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، أخبرنا حَيْوة بن شُريح، أخبرنا مالك بن خير الزَّبَادي، أنَّ مالك بن سعد التُّجِيبِي حدثه، أنه سمع ابن عباس يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "أتاني جبريلُ، فقال: يا محمد، إِنَّ الله لَعَنَ الخمرةَ، وعاصِرَها، ومُعتَصِرَها، وشارِبَها، وحامِلَها، والمحمولةَ إليه، وبائعَها، وساقِيَها، ومُستَقِيَها (1) " (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، وشاهده حديث عبد الله بن عمر، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2234 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، وشاهده حديث عبد الله بن عمر، ولم يُخرجاه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2234 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! اللہ تعالیٰ نے شراب پر لعنت کی ہے، اور اسے نچوڑنے والے، نچوڑوانے والے، پینے والے، اٹھا کر لے جانے والے، جس کی طرف لے جائی جائے، اسے بیچنے والے، پلانے والے اور پینے کی فرمائش کرنے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کا شاہد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کا شاہد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔
أخبرَناه محمد بن عيسى القزّاز الرازي ببغداد وعبد الله بن موسى العَدْل بنَيسابُور، قالا: حدثنا علي بن الحسين بن الجُنيد، حدثنا المُعافى بن سليمان، حدثنا فُليح بن سليمان، عن سعيد بن عبد الرحمن بن وائل، عن عبد الله بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لعنَ اللهُ الخمرَ، ولعنَ ساقِيَها، وشاربَها، وعاصِرَها، ومُعتَصِرَها، وحامِلَها، والمحمولةَ إليه، وبائعَها، ومُبتاعَها، وآكلَ ثَمنِها" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے شراب پر لعنت کی ہے، اور اسے پلانے والے، پینے والے، نچوڑنے والے، نچوڑوانے والے، اٹھا کر لے جانے والے، جس کی طرف لے جائی جائے، اسے بیچنے والے، خریدنے والے اور اس کی قیمت کھانے والے پر بھی لعنت فرمائی ہے۔“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا يحيى بن سَلَّام، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة: أنَّ النبيَّ ﷺ ابتاعَ مِن أعرابي جَزُورًا بتمرٍ، وكان يرى أنَّ التمرَ عنده، فإذا بعضُه عندَه وبعضُه ليس عندَه، فقال: "هل لك أن تأخُذَ بعضَ تمرِك وبعضَه إِلى الجَدَاد؟ " فأَبى، فاستسلَفَ له النبيُّ ﷺ تمرَه، فدَفَعَه إليه (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2236 - يحيى بن سلام ضعيف ولم يخرج له أحد
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2236 - يحيى بن سلام ضعيف ولم يخرج له أحد
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک اعرابی سے کھجوروں کے عوض اونٹ خریدا، آپ ﷺ کا گمان تھا کہ آپ کے پاس کھجوریں موجود ہیں، لیکن معلوم ہوا کہ کچھ موجود ہیں اور کچھ نہیں ہیں، آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم کچھ کھجوریں ابھی لے لو اور باقی کھجوریں کٹائی کے وقت لے لینا؟“ اس نے انکار کر دیا، تو نبی کریم ﷺ نے اس کے لیے کھجوریں ادھار حاصل کیں اور اسے ادا کر دیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس الفقيه بمكة، حدثنا بكر بن سهل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف التِّنِّيسي، حدثنا عبد الله بن سالم، حدثنا محمد بن حمزة بن محمد بن يوسف بن عبد الله بن سَلَام، عن أبيه، عن جده: أنَّ زيد بن سَعْنةَ كان من أحبار اليهود أتى النبيَّ ﷺ يتقاضاه، فجَبَذَ ثوبه عن مَنكِبِه الأيمن، ثم قال: إنكم يا بني عبد المطّلب أصحابُ مَطْلٍ، وإني بكم لَعَارِف، قال: فانتَهَره عمرُ، فقال له رسول الله ﷺ: "يا عمرُ، أنا وهو كنا إلى غيرِ هذا منك أحوجَ، أن تأمُرَني بحُسن القَضاءِ، وتأمُرَه بحُسن التَّقاضي، انطلِقْ يا عمرُ أَوفِهِ حَقَّه، أما إنه قد بقيَ مِن أجله ثلاثٌ، فزِدْه ثلاثين صاعًا لتدويرِك عليه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2237 - مرسل
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2237 - مرسل
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زید بن سعنہ رضی اللہ عنہ (جو یہودیوں کے بڑے علماء میں سے تھے) سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس اپنا قرض مانگنے آئے، انہوں نے آپ ﷺ کی چادر کو دائیں کندھے سے پکڑ کر کھینچا اور کہا: اے بنو عبدالمطلب! تم لوگ ٹال مٹول کرنے والے ہو اور میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمر! مجھے اور اسے آپ سے کسی اور طرزِ عمل کی ضرورت تھی، وہ یہ کہ آپ مجھے حسنِ ادائیگی اور اسے حسنِ تقاضا کی تلقین کرتے، اے عمر! جاؤ اور اس کا حق ادا کر دو، اور چونکہ اس کی مدت میں ابھی تین دن باقی ہیں، اس لیے اسے تیس صاع مزید دینا کیونکہ تم نے اسے ڈرایا دھمکایا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔