المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
النَّهَيُ عَنْ كَسْرِ سِكَّةِ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةِ . باب: مسلمانوں کے رائج سکے کو توڑنے سے ممانعت۔
حدیث نمبر: 2264
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوزير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس. وأخبرني أبو عمرو إسماعيل بن نُجَيد السُّلَمي، أخبرنا أبو مسلم؛ قالا: حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثنا محمد بن فَضَاء. وحدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا المعتمر بن سليمان، حدثنا محمد بن فَضَاء، عن أبيه، عن علقمة بن عبد الله المُزَني، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن كَسْر سِكّةِ المسلمين الجائزةِ بينهم إلّا من بأسٍ، أو أن يُكسَرَ الدرهمُ فيُجعلَ فضةً، ويُكسَرَ الدينارُ فيُجعلَ ذهبًا" (2). ولم يذكر الأنصاريُّ في حديثه والدَ علقمة، وذكره المعتمِر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2233 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
علقمہ بن عبداللہ مزنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے مروج سکوں کو توڑنے سے منع فرمایا سوائے اس کے کہ اس میں کوئی خرابی ہو، یا یہ کہ درہم کو توڑ کر چاندی اور دینار کو توڑ کر سونا بنا لیا جائے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف محمد بن فضاء وجهالة أبيه فضاء بن خالد الجهضمي.
وأخرجه أحمد 24/ (15457)، وأبو داود (3449)، وابن ماجه (2263) من طرق عن المعتمر بن سليمان، بهذا الإسناد، دون قوله: "أو أن يكسر الدرهم … " إلى آخره.
حکم / درجۂ حدیث: سند محمد بن فضاء کے ضعف اور ان کے والد فضاء بن خالد کی جہالت کی وجہ سے "ضعیف" ہے
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (24/ 15457)، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
قال الخطابي: أصل السكة: الحديدة التي يطبع عليها الدراهم، والنهي إنما وقع عن كسر الدراهم المضروبة على السكة.
توضیح: امام خطابی فرماتے ہیں کہ ممانعت ان درہموں کو توڑنے سے ہے جو سکہ بند ہوں اور لین دین کے لیے استعمال ہوتے ہوں۔
وأخرجه أحمد 24/ (15457)، وأبو داود (3449)، وابن ماجه (2263) من طرق عن المعتمر بن سليمان، بهذا الإسناد، دون قوله: "أو أن يكسر الدرهم … " إلى آخره.
حکم / درجۂ حدیث: سند محمد بن فضاء کے ضعف اور ان کے والد فضاء بن خالد کی جہالت کی وجہ سے "ضعیف" ہے
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (24/ 15457)، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
قال الخطابي: أصل السكة: الحديدة التي يطبع عليها الدراهم، والنهي إنما وقع عن كسر الدراهم المضروبة على السكة.
توضیح: امام خطابی فرماتے ہیں کہ ممانعت ان درہموں کو توڑنے سے ہے جو سکہ بند ہوں اور لین دین کے لیے استعمال ہوتے ہوں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2264 سے ماخوذ ہے۔