المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا وَوَضَعَ لَهُ ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ باب: جو تنگ دست کو مہلت دے یا اس کا قرض معاف کر دے، اللہ اسے اپنے سائے میں جگہ دے گا۔
حدیث نمبر: 2256
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني وأبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي، قالا: حدثنا أبو جعفر محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا عَفّان، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثنا محمد بن جُحَادة، عن سليمان بن بُريدة، عن أبيه، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "مَن أنظَرَ مُعسِرًا فله بكلِّ يوم صدقةٌ قبل أن يَحِلَّ الدَّينُ، فإذا حَلَّ الدَّينُ فأنْظَرَه بعد ذلك فله بكلِّ يوم مثلُه صدقةً" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2225 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی، تو اسے قرض کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہر دن کے بدلے صدقہ کا ثواب ملے گا، اور جب میعاد ختم ہو جائے اور وہ پھر اسے مہلت دے، تو اسے ہر دن کے بدلے اس رقم جتنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده صحيح. عفان: هو ابن مسلم الصَّفّار.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے
توضیح: عفان سے مراد ابن مسلم الصفار ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23046) عن عفان بن مسلم، بهذا الإسناد. لكن بلفظ: "من أنظر معسرًا فله بكل يوم مثله صدقة" قال: ثم سمعته يقول: "من أنظر مُعسرًا فله بكل يوم مثليه صدقة" قلت: سمعتك يا رسول الله تقول: "من أنظر معسرًا فله بكل يوم مثله صدقة" ثم سمعتك تقول: "من أنظر مُعسرًا فله بكل يوم مثليه صدقة" قال له: "بكل يوم صدقة قبل أن يَحِلَّ الدَّين، فإذا حلَّ الدَّين فأنظرَه فله بكل يوم مثليه صدقة".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38/ 23046) نے عفان کی سند سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی، اس کے لیے ہر دن کے بدلے اتنے ہی مال کا صدقہ لکھا جائے گا، اور مدت پوری ہونے کے بعد مہلت دی تو ہر دن کے بدلے دوگنا صدقہ لکھا جائے گا"۔
لكن لفظ الحاكم هو المعتمد، وهو الذي رواه جماعة أصحاب عفان غير أحمد، وكذلك هو الذي رواه جماعة أصحاب عبد الوارث.
اہم نکتہ: امام حاکم کے الفاظ ہی معتبر ہیں، کیونکہ عفان اور عبدالوارث کے دیگر تمام شاگردوں نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22970)، وابن ماجه (2418) من طريق نُفيع بن الحارث أبي داود الأعمى، عن بريدة. ولفظه على الجادة، لكن أبا داود الأعمى متروك الحديث.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2418) نے بھی روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں ابوداؤد الاعمٰی "متروک الحدیث" (ناقابلِ قبول) ہے۔
ومعنى الحديث: أنه إن أنظره قبل حلول الدَّين كان له بكل يوم صدقة مطلقة غير محددة، وإن أنظره بعد حلول أجل الدَّين كان له بكل يوم مثلُ قدرِ ما أقرضَه صدقةً.
وهذه الصدقة المطلقة في الإنظار قبل حُلول أجل الدَّين قد جاء تقييدها في حديث ابن مسعود عند أحمد 7/ (3911) وغيره بأنها تعدل شَطْرَ الصدقة. يعني كأنه تصدّق بشطر ما أقرض.
توضیح: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر قرض کی مدت پوری ہونے سے پہلے مہلت دی جائے تو ہر دن کا عام صدقہ ملے گا، لیکن مدت پوری ہونے کے بعد مہلت دی تو ہر روز اتنی رقم کے برابر صدقہ ملے گا جتنا قرض دیا تھا
اہم نکتہ: مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق مدت سے پہلے کی مہلت آدھے صدقے کے برابر ہوتی ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے
توضیح: عفان سے مراد ابن مسلم الصفار ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23046) عن عفان بن مسلم، بهذا الإسناد. لكن بلفظ: "من أنظر معسرًا فله بكل يوم مثله صدقة" قال: ثم سمعته يقول: "من أنظر مُعسرًا فله بكل يوم مثليه صدقة" قلت: سمعتك يا رسول الله تقول: "من أنظر معسرًا فله بكل يوم مثله صدقة" ثم سمعتك تقول: "من أنظر مُعسرًا فله بكل يوم مثليه صدقة" قال له: "بكل يوم صدقة قبل أن يَحِلَّ الدَّين، فإذا حلَّ الدَّين فأنظرَه فله بكل يوم مثليه صدقة".
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (38/ 23046) نے عفان کی سند سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "جس نے کسی تنگ دست کو مہلت دی، اس کے لیے ہر دن کے بدلے اتنے ہی مال کا صدقہ لکھا جائے گا، اور مدت پوری ہونے کے بعد مہلت دی تو ہر دن کے بدلے دوگنا صدقہ لکھا جائے گا"۔
لكن لفظ الحاكم هو المعتمد، وهو الذي رواه جماعة أصحاب عفان غير أحمد، وكذلك هو الذي رواه جماعة أصحاب عبد الوارث.
اہم نکتہ: امام حاکم کے الفاظ ہی معتبر ہیں، کیونکہ عفان اور عبدالوارث کے دیگر تمام شاگردوں نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (22970)، وابن ماجه (2418) من طريق نُفيع بن الحارث أبي داود الأعمى، عن بريدة. ولفظه على الجادة، لكن أبا داود الأعمى متروك الحديث.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (2418) نے بھی روایت کیا ہے لیکن اس کی سند میں ابوداؤد الاعمٰی "متروک الحدیث" (ناقابلِ قبول) ہے۔
ومعنى الحديث: أنه إن أنظره قبل حلول الدَّين كان له بكل يوم صدقة مطلقة غير محددة، وإن أنظره بعد حلول أجل الدَّين كان له بكل يوم مثلُ قدرِ ما أقرضَه صدقةً.
وهذه الصدقة المطلقة في الإنظار قبل حُلول أجل الدَّين قد جاء تقييدها في حديث ابن مسعود عند أحمد 7/ (3911) وغيره بأنها تعدل شَطْرَ الصدقة. يعني كأنه تصدّق بشطر ما أقرض.
توضیح: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر قرض کی مدت پوری ہونے سے پہلے مہلت دی جائے تو ہر دن کا عام صدقہ ملے گا، لیکن مدت پوری ہونے کے بعد مہلت دی تو ہر روز اتنی رقم کے برابر صدقہ ملے گا جتنا قرض دیا تھا
اہم نکتہ: مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق مدت سے پہلے کی مہلت آدھے صدقے کے برابر ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2256 سے ماخوذ ہے۔