المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
الْجَالِبُ إِلَى سُوقِنَا كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ باب: جو شخص ہمارے بازار میں سامان لاتا ہے وہ اللہ کی راہ میں مجاہد کی مانند ہے۔
حدیث نمبر: 2197
ما أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد، حدثنا جدّي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني محمد بن طلحة بن (2) عبد الرحمن بن طلحة، عن عبد الرحمن بن أبي بكر بن المغيرة، عن عمه اليَسَع بن المغيرة، قال: مَرَّ رسولُ الله ﷺ برجلٍ بالسوق، يبيع طعامًا بسعرٍ هو أرخَصُ من سعر السوق، فقال له: "تبيعُ في سوقِنا بسعر هو أرخَصُ من سعرنا؟ " قال: نعم، قال: "صبرًا واحتسابًا؟ " قال: نعم، قال: "أبشِرْ، فإنَّ الجالِبَ إلى سوقِنا كالمجاهد في سبيل الله، والمحتكِرُ في سوقِنا كالمُلحِد في كتاب الله" (3). ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2167 - خبر منكر وإسناد مظلمحافظ طلحہ بابر
یسع بن مغیرہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بازار میں ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو غلہ اس قیمت پر بیچ رہا تھا جو مارکیٹ ریٹ سے سستی تھی، آپ ﷺ نے اس سے دریافت فرمایا: ”کیا تم ہمارے بازار میں ہماری قیمتوں سے سستا مال بیچ رہے ہو؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”صرف ثواب اور رضا الٰہی کی نیت سے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے خوشخبری ہو، کیونکہ ہمارے بازار میں (باہر سے مال) لانے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے، اور ہمارے بازار میں ذخیرہ اندوزی کرنے والا اللہ کی کتاب میں ملحد (سرکش نافرمان) کی طرح ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عن. وإنما هو محمد بن طلحة بن عبد الرحمن بن طلحة التيمي.
تصحیح: نسخوں میں "عن" تحریف ہوا ہے، درست نام
محمد بن طلحہ بن عبدالرحمن ہے۔
(3) إسناده ضعيف لجهالة عبد الرحمن بن أبي بكر بن المغيرة، ولإرساله، لأنَّ اليسع تابعي صغير معروف، كما بينه الحافظ في "الإصابة" 6/ 722. وقول الذهبي ﵀: إسناده مظلم، فيه مجازفة منه.
وقد روي عن عمر بن الخطاب من قوله بسند حسن: أنَّ احتكار الطعام بمكة إلحاد، فقيّده بمكة. أخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 7/ 255 - 256، والأزرقي في "أخبار مكة" 2/ 135، والفاكهي في "أخبار مكة" (1776)، وابن المنذر في "الأوسط" (7987).
حکم / درجۂ حدیث: سند
ضعیف ہے کیونکہ عبدالرحمن مجہول ہے اور "یسع" نامی راوی تابعی صغیر ہیں (انقطاع ہے)۔ حضرت عمرؓ سے مکہ میں احتکار کو "الحاد" (گناہ) کہنا
حسن سند سے ثابت ہے۔
وعن عمر أيضًا قال: من جاء أرضنا بسلعةٍ فليبعها كما أراد، وهو ضيفي حتى يخرج، وهو أسوتنا، ولا يَبعْ في سوقنا محتكر. أخرجه عبد الرزاق (14901 - 14903)، وانظر تمام تخريجه عند الحديث (2193).
حوالہ / مصدر: حضرت عمرؓ نے فرمایا: "جو ہمارے ملک میں سامان لائے وہ جیسے چاہے بیچے، وہ ہمارا مہمان ہے، لیکن ہمارے بازار میں ذخیرہ اندوز فروخت نہ کرے"۔
تصحیح: نسخوں میں "عن" تحریف ہوا ہے، درست نام
محمد بن طلحہ بن عبدالرحمن ہے۔
(3) إسناده ضعيف لجهالة عبد الرحمن بن أبي بكر بن المغيرة، ولإرساله، لأنَّ اليسع تابعي صغير معروف، كما بينه الحافظ في "الإصابة" 6/ 722. وقول الذهبي ﵀: إسناده مظلم، فيه مجازفة منه.
وقد روي عن عمر بن الخطاب من قوله بسند حسن: أنَّ احتكار الطعام بمكة إلحاد، فقيّده بمكة. أخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 7/ 255 - 256، والأزرقي في "أخبار مكة" 2/ 135، والفاكهي في "أخبار مكة" (1776)، وابن المنذر في "الأوسط" (7987).
حکم / درجۂ حدیث: سند
ضعیف ہے کیونکہ عبدالرحمن مجہول ہے اور "یسع" نامی راوی تابعی صغیر ہیں (انقطاع ہے)۔ حضرت عمرؓ سے مکہ میں احتکار کو "الحاد" (گناہ) کہنا
حسن سند سے ثابت ہے۔
وعن عمر أيضًا قال: من جاء أرضنا بسلعةٍ فليبعها كما أراد، وهو ضيفي حتى يخرج، وهو أسوتنا، ولا يَبعْ في سوقنا محتكر. أخرجه عبد الرزاق (14901 - 14903)، وانظر تمام تخريجه عند الحديث (2193).
حوالہ / مصدر: حضرت عمرؓ نے فرمایا: "جو ہمارے ملک میں سامان لائے وہ جیسے چاہے بیچے، وہ ہمارا مہمان ہے، لیکن ہمارے بازار میں ذخیرہ اندوز فروخت نہ کرے"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2197 سے ماخوذ ہے۔