کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: کوئی بندہ اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اس کے مقدر کا آخری رزق اسے نہ مل جائے۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن الليث المروَزي، حدثنا أحمد بن عيسى، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن سعيد بن أبي هِلال، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابر بن عبد الله، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا تَستبطِئوا الرزقَ، فإنه لم يَكُن عبدٌ لِيموتَ حتى يبلُغَ آخرَ رِزقٍ هو له، فأجمِلُوا في الطلَب؛ أَخْذِ الحلال وتَرْكِ الحرام" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه عن أبي الزُّبَير عن جابر صحيح على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2134 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه عن أبي الزُّبَير عن جابر صحيح على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2134 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رزق کے معاملے میں جلدی نہ مچاؤ (یعنی اسے دیر سے آتا ہوا محسوس نہ کرو)، کیونکہ کوئی بندہ اس وقت تک ہرگز نہیں مرے گا جب تک کہ وہ اپنے مقدر کا آخری رزق بھی حاصل نہ کر لے، پس طلبِ رزق میں عمدہ اور خوبصورت طریقہ اختیار کرو؛ یعنی حلال کو حاصل کرو اور حرام کو چھوڑ دو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک شاہد سیدنا جابر سے امام مسلم کی شرط پر صحیح موجود ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک شاہد سیدنا جابر سے امام مسلم کی شرط پر صحیح موجود ہے۔
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن بكر، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبَير، عن جابر، قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ أحدَكُم لن يموتَ حتى يَستكمِلَ رزقَه، فلا تَستبطِئوا الرزقَ، واتقُوا اللهَ أيها الناسُ، وأجمِلُوا في الطلَبِ، خُذُوا ما حَلَّ، ودَعُوا مَا حَرُمَ" (2). وأيضا شاهدٌ عن ابن مسعود، بزيادات ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2135 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2135 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ہرگز موت سے ہمکنار نہیں ہوگا جب تک کہ وہ اپنا پورا رزق حاصل نہ کر لے، لہٰذا رزق کے معاملے میں بے صبری نہ دکھاؤ، اور اے لوگو! اللہ سے ڈرو اور طلبِ رزق میں اعتدال اور خوبصورتی اختیار کرو، جو حلال ہے اسے لے لو اور جو حرام ہے اسے چھوڑ دو۔“