المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
خُذُوا مَا حَلَّ وَدَعُوا مَا حُرِّمَ باب: حلال کو اختیار کرو اور حرام کو چھوڑ دو۔
حدیث نمبر: 2162
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا سليمان بن بلال، حدثني ربيعة بن أبي عبد الرحمن، عن عبد الملك بن سعيد بن سُويد، عن أبي حُميد الساعِدي، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "أجمِلُوا في طلبِ الدُّنيا، فإنَّ كلًّا مُيسَّرٌ لما كُتِبَ له منها" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2133 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دنیا کی طلب میں میانہ روی اور اعتدال اختیار کرو، کیونکہ ہر شخص کو وہی چیز آسانی سے ملے گی جو اس کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند
صحیح ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2142) من طريق عُمارة بن غَزِيَّة، عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن، بهذا الإسناد. لكن بلفظ: "فإنَّ كُلًّا مُيسَّر لما خُلِقَ له".
حوالہ / مصدر: ابن ماجہ نے اسے عمارہ بن غزیہ کی سند سے روایت کیا ہے، جس کے الفاظ ہیں: "ہر شخص کے لیے وہی راستہ آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے"۔
وللإجمال في الطلب عدةُ أحاديث سيذكرها المصنف بعد هذا الحديث.
موضوع: روزی کی تلاش میں اعتدال (اجماع فی الطلب) کے بارے میں مزید احادیث آگے آئیں گی۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند
صحیح ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (2142) من طريق عُمارة بن غَزِيَّة، عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن، بهذا الإسناد. لكن بلفظ: "فإنَّ كُلًّا مُيسَّر لما خُلِقَ له".
حوالہ / مصدر: ابن ماجہ نے اسے عمارہ بن غزیہ کی سند سے روایت کیا ہے، جس کے الفاظ ہیں: "ہر شخص کے لیے وہی راستہ آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے"۔
وللإجمال في الطلب عدةُ أحاديث سيذكرها المصنف بعد هذا الحديث.
موضوع: روزی کی تلاش میں اعتدال (اجماع فی الطلب) کے بارے میں مزید احادیث آگے آئیں گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2162 سے ماخوذ ہے۔