کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: آیۃ الکرسی پڑھنے سے جنّات سے حفاظت ہوتی ہے۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق بن يوسف، حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا أبو داود الطّيالسي، حدثنا حَرْب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كَثير، حدثني الحَضْرمي بن لاحِقٍ، عن محمد بن عمرو بن أُبيّ بن كعب، عن جدِّه أُبيّ بن كعب: أنه كان له جَرِينُ تمرٍ (2)، فكان يجدُه ينقُصُ، فحرسَه ليلةً، فإذا هو بمثل الغلامِ المحتلِم، فسلَّم عليه، فردَّ عليه السلامَ، فقال: أجِنّيٌّ، أم إنسيٌّ؟ فقال: بل جِنّيٌّ، فقال: أرِني يدَكَ، فأراه، فإذا يدُ كلبٍ، وشعرُ كلبٍ، فقال: هكذا خَلْقُ الجنِّ، فقال: لقد عَلِمَتِ الجنُّ أنه ليس فيهم رجلٌ أشدَّ مني، قال: ما جاء بك؟ قال: أُنبئنا أنك تحبُّ الصدقةَ، فجئنا نُصيبُ من طعامِكَ، قال: ما يُجِيرُنا منكم؟ قال: تقرأ آيةَ الكرسيّ من سورة البقرة ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [البقرة: 255]؟ قال: نعم، قال: إذا قرأتها غَدوةً أُجِرْتَ مِنّا حتى تُمسيَ، وإذا قرأتها حين تمسي أُجِرتَ مِنّا حتى تصبحَ. قال أُبي: فغَدَوتُ إلى رسول الله ﷺ، فأخبرتُه بذلك، فقال: "صَدَقَ الخَبِيثُ" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کھجوروں کا ایک کھلیان تھا جس میں سے کھجوریں کم ہو جاتی تھیں، انہوں نے ایک رات پہرہ دیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک نوجوان لڑکے جتنا جثہ نظر آیا، انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے سلام کا جواب دیا، انہوں نے پوچھا: تم جن ہو یا انسان؟ اس نے کہا: میں جن ہوں، انہوں نے کہا: اپنا ہاتھ دکھاؤ، اس نے دکھایا تو وہ کتے کے ہاتھ اور کتے کے بالوں جیسا تھا، انہوں نے کہا: جنوں کی پیدائش ایسی ہی ہوتی ہے، پھر اس نے کہا: تمام جن جانتے ہیں کہ ان میں مجھ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں، انہوں نے پوچھا: تمہیں یہاں کون لایا؟ اس نے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ صدقہ پسند کرتے ہیں تو ہم آپ کے کھانے میں سے کچھ لینے آئے ہیں، انہوں نے پوچھا: ہمیں تم سے کون سی چیز پناہ دے گی؟ اس نے کہا: کیا آپ سورہ بقرہ کی آیت الکرسی ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة البقرة: 255] پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: اگر آپ اسے صبح کے وقت پڑھیں گے تو شام تک ہم سے محفوظ رہیں گے، اور اگر شام کو پڑھیں گے تو صبح تک محفوظ رہیں گے۔ ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں صبح رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس خبیث نے سچ کہا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2088
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2088] [ترقيم الشركة 2072]
أخبرني أبو نصر أحمد بن سَهْل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدثنا أبو هشام محمد بن يزيد، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا محمد بن إسحاق، عن يزيد بن أبي حبيب، عن مَرْثَد بن عبد الله، عن عُقبة بن عامر قال: قال رسول الله ﷺ: "اقرأْ بالآيتَين من آخرِ سورة البقرة، فإني أُعطِيتُهما من تحتِ العرش" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سورہ بقرہ کی آخری دو آیات پڑھا کرو، کیونکہ یہ دونوں مجھے عرش کے نیچے سے عطا کی گئی ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2089
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، أبو هشام محمد بن يزيد» [ترقيم الرساله 2089]