حدیث نمبر: 2088
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق بن يوسف، حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا أبو داود الطّيالسي، حدثنا حَرْب بن شدَّاد، عن يحيى بن أبي كَثير، حدثني الحَضْرمي بن لاحِقٍ، عن محمد بن عمرو بن أُبيّ بن كعب، عن جدِّه أُبيّ بن كعب: أنه كان له جَرِينُ تمرٍ (2)، فكان يجدُه ينقُصُ، فحرسَه ليلةً، فإذا هو بمثل الغلامِ المحتلِم، فسلَّم عليه، فردَّ عليه السلامَ، فقال: أجِنّيٌّ، أم إنسيٌّ؟ فقال: بل جِنّيٌّ، فقال: أرِني يدَكَ، فأراه، فإذا يدُ كلبٍ، وشعرُ كلبٍ، فقال: هكذا خَلْقُ الجنِّ، فقال: لقد عَلِمَتِ الجنُّ أنه ليس فيهم رجلٌ أشدَّ مني، قال: ما جاء بك؟ قال: أُنبئنا أنك تحبُّ الصدقةَ، فجئنا نُصيبُ من طعامِكَ، قال: ما يُجِيرُنا منكم؟ قال: تقرأ آيةَ الكرسيّ من سورة البقرة ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [البقرة: 255]؟ قال: نعم، قال: إذا قرأتها غَدوةً أُجِرْتَ مِنّا حتى تُمسيَ، وإذا قرأتها حين تمسي أُجِرتَ مِنّا حتى تصبحَ. قال أُبي: فغَدَوتُ إلى رسول الله ﷺ، فأخبرتُه بذلك، فقال: "صَدَقَ الخَبِيثُ" (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس کھجوروں کا ایک کھلیان تھا جس میں سے کھجوریں کم ہو جاتی تھیں، انہوں نے ایک رات پہرہ دیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک نوجوان لڑکے جتنا جثہ نظر آیا، انہوں نے اسے سلام کیا، اس نے سلام کا جواب دیا، انہوں نے پوچھا: تم جن ہو یا انسان؟ اس نے کہا: میں جن ہوں، انہوں نے کہا: اپنا ہاتھ دکھاؤ، اس نے دکھایا تو وہ کتے کے ہاتھ اور کتے کے بالوں جیسا تھا، انہوں نے کہا: جنوں کی پیدائش ایسی ہی ہوتی ہے، پھر اس نے کہا: تمام جن جانتے ہیں کہ ان میں مجھ سے زیادہ طاقتور کوئی نہیں، انہوں نے پوچھا: تمہیں یہاں کون لایا؟ اس نے کہا: ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ صدقہ پسند کرتے ہیں تو ہم آپ کے کھانے میں سے کچھ لینے آئے ہیں، انہوں نے پوچھا: ہمیں تم سے کون سی چیز پناہ دے گی؟ اس نے کہا: کیا آپ سورہ بقرہ کی آیت الکرسی ﴿اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ [سورة البقرة: 255] پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، اس نے کہا: اگر آپ اسے صبح کے وقت پڑھیں گے تو شام تک ہم سے محفوظ رہیں گے، اور اگر شام کو پڑھیں گے تو صبح تک محفوظ رہیں گے۔ ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں صبح رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس خبیث نے سچ کہا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2088
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2088] [ترقيم الشركة 2072]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) الجَرِين: موضع تجفيف التمر، وهو كالبَيدَر للحنطة.
نوٹ / توضیح: "جرین" اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کھجوریں خشک کی جاتی ہیں (کھلیان)۔
(3) إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختُلف فيه على يحيى بن أبي كثير، فروي عنه عن الحضرمي بن لاحق، كما وقع في هذه الطريق، وروي عنه عن الحضرمي عن محمد بن عمرو بن أُبيّ بن كعب أنه كان لجده جرين، يعني مرسلًا، وروي عنه عن عبدة بن أبي لبابة عن عبد الله بن أُبيّ بن كعب

عن أبيه، وروي عنه عن ابن أُبيّ بن كعب عن أبيه، يعني دون واسطة، وسيأتي بيانه، ومحمد بن عمرو بن أُبي المذكور هنا مجهول. أبو داود الطيالسي: هو سليمان بن داود.

علّت / فنی نکتہ: اس کی سند "اضطراب" کی وجہ سے ضعیف ہے۔ یحییٰ بن ابی کثیر سے اس کے نقل کرنے میں بہت اختلاف ہے، اور محمد بن عمرو بن ابی کعب نامی راوی "مجہول" ہے۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 7/ 109 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے امام حاکم کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" (541) عن العباس بن الفضل الأسفاطي، عن موسى بن إسماعيل، عن أبان بن يزيد، عن يحيى بن أبي كثير، عن الحضرمي، عن محمد بن أُبيّ بن كعب، عن أبيه. ومحمد هذا: هو ابن عمرو بن أُبيّ الوارد اسمُه في إسناد الحاكم، فقوله: عن أبيه، يعني: عن جده، مجازًا.
حوالہ / مصدر: طبرانی کی روایت میں "عن ابیہ" سے مراد مجازی طور پر "عن جدہ" (اپنے دادا سے) ہے۔
لكن خالف العباسَ الأسفاطيَّ البخاريُّ في "تاريخه" 1/ 27 - 28، فقال: عن موسى، عن أبان، عن يحيى، عن الحضرمي، عن محمد بن أبي بن كعب: أنَّ أبيًّا، فأرسله، وهذا أشبه.
سندی اختلاف: امام بخاری نے عباس اسفاطی کی مخالفت کی اور اسے "مرسل" روایت کیا ہے، جو کہ زیادہ درست معلوم ہوتا ہے۔
فقد أخرجه البخاري أيضًا في "تاريخه" 11/ 27 عن عمرو بن علي الفلّاس، ومحمد بن نصر المروَزي في "قيام الليل أيضًا - مختصره" ص 166 - 167، والشاشي في "مسنده" (1449)، والضياء المقدسي في "الأحاديث المختارة" 4/ (1261) من طريق محمد بن بشار، كلاهما عن أبي داود الطيالسي، عن حرب، عن يحيى، عن الحضرمي، عن محمد بن أبيّ بن كعب، قال: كان لجدي أبي بن كعب، مرسلًا.
حوالہ / مصدر: امام بخاری (تاریخ)، مروزی، شاشی اور ضیاء مقدسی نے اسے ابو داؤد طیالسی کے طریق سے "مرسل" ہی روایت کیا ہے۔
وكذلك أخرجه النسائي (10731)، ومن طريقه ابن عبد البر في "التمهيد" 16/ 269 من طريق معاذ بن هانئ، عن حرب بن شداد، به مرسلًا.
حوالہ / مصدر: نسائی اور ابن عبدالبر نے معاذ بن ہانی کے طریق سے اسے "مرسل" روایت کیا ہے۔
وكذا أخرجه النسائي (10732)، ومن طريقه ابن عبد البر 16/ 269 من طريق شيبان بن عبد الرحمن، عن يحيى بن أبي كثير، مرسلًا.
حوالہ / مصدر: نسائی نے شیبان کے طریق سے بھی اسے "مرسل" ہی نقل کیا ہے۔
ورواه أيضًا الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير، واختُلف عليه:
سندی اختلاف: اوزاعی نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا مگر ان کے شاگردوں میں اختلاف ہو گیا۔
فأخرجه ابن أبي الدنيا في "الهواتف" (174) عن الحسن بن الصبّاح، وأبو يعلى في "مسنده الكبير" كما في "إتحاف الخيرة" للبوصيري (5634/ 2)، ومن طريقه الضياء (1262) عن أحمد بن إبراهيم الدورقي، كلاهما عن مبشّر بن إسماعيل، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن عبدة بن أبي لبابة، عن عبد الله بن أبيّ بن كعب، أنَّ أباه أخبره.
حوالہ / مصدر: ابن ابی الدنیا، ابو یعلیٰ اور ضیاء نے مبشر بن اسماعیل کے طریق سے اسے موصول (متصل) روایت کیا ہے۔
وخالف عبدُ الحميد بن سعيد عند النسائي (10730) فرواه عن مبشِّر، عن الأوزاعي، عن يحيى، قال: حدثني ابنُ أبيّ بن كعب، أنَّ أباه أخبره. فلم يذكر عبدة في إسناده. وهذا عن الأوزاعي هو الأشبه.
علّت / فنی نکتہ: عبدالحمید بن سعید نے مبشر سے روایت کرتے ہوئے واسطہ (عبدہ) گرا دیا، اوزاعی سے یہی طریقہ زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
فقد أخرجه الحارث بن أبي أسامة كما في "بغية الباحث" للهيثمي (1051)، ومن طريقه أبو نعيم في "دلائل النبوة" (544) من طريق الهِقْل بن زياد، وابن حبان (784)، وأبو الشيخ

في "العظمة" (1092)، والبَغَوي في "شرح السنة" (1197) من طريق الوليد بن مسلم، والشاشي في "مسنده" (1448) من طريق عمر بن عبد الواحد، والبيهقي في "دلائل النبوة" 7/ 108 - 109 من طريق الوليد بن مزيد، أربعتهم عن الأوزاعي، عن يحيى، فقال: حدثني ابن أبيّ بن كعب، أنَّ أباه أخبره. فوافقوا مبشّر بن إسماعيل في روايته الثانية التي ليس فيها عبدة، مع تصريح يحيى بن أبي كثير فيها بالسماع من عبد الله بن أبيّ بن كعب.

اہم نکتہ: حارث بن ابی اسامہ، ابو نعیم، ابن حبان اور دیگر نے اوزاعی سے اسے بغیر "عبدہ" کے ذکر کے روایت کیا ہے، جس میں یحییٰ بن ابی کثیر کی عبداللہ بن ابی بن کعب سے سماع کی صراحت موجود ہے۔
ولأصل القصة شواهد رويت عن غير واحد من الصحابة تتقوّى بها سيأتي بيانها عند حديث ابن عباس برقم (6045).
متابعات و شواہد: اس قصے کی اصل کے کئی شواہد دیگر صحابہ سے مروی ہیں جن سے یہ قوی ہو جاتا ہے، ان کی تفصیل ابن عباس کی حدیث (نمبر 6045) کے تحت آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2088 سے ماخوذ ہے۔