کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قرآن کے فضائل — قیامت کے دن قرآن ایک خوبصورت نوجوان کی صورت میں آئے گا۔
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف، حدثنا معاذ بن نَجْدة القُرشي، حدثنا خلّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن مهاجِر، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ: "يجيءُ يومَ القيامة القرآنُ كالرجلِ الشابِّ، فيقول لصاحبه: أنا الذي أسهرتُ ليلَك، وأظمأتُ نهارَك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن قرآن ایک نوجوان کی صورت میں آئے گا اور اپنے (ساتھ دینے والے) ساتھی سے کہے گا: میں وہی ہوں جس نے تمہاری راتیں جگائیں اور تمہارے دن پیاسا گزارے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة محمد بن عمرو بن خالد، حدثنا أبي، حدثنا المعتمر بن سلمان، قال: سمعت أبي يحدِّث عن قَتَادة، عن ابن أبي الجَعْد (1)، عن أبي أمامة: أنَّ رجلًا جاء إلى النبي ﷺ فقال: يا نبي الله، اشتريتُ مِقسمَ بني فُلان فربحتُ فيه كذا وكذا، قال: "أفلا أنبِّئُك بما هو أكثرُ منه ربحًا؟ " قال: وهل يُوجد؟ قال: "رجل تعلَّم عشرَ آياتٍ"، فذهب الرجل فتعلّم عشرَ آيات، فأتى النبيَّ ﷺ فأخبره (2). إن كان عمرو بن خالد حَفِظَ في إسناده سالمَ بن أبي الجعد، فإنه صحيح على شرط الشيخين، غير أنَّ البصريِّين من أصحاب المعتمِر خالفوه فيه:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں نے فلاں قبیلے کا مال خریدا اور اس میں اتنا اتنا نفع کمایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ نفع بخش چیز کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ اس نے عرض کیا: کیا (اس سے زیادہ نفع بخش چیز) موجود ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو قرآن کی دس آیات سیکھے۔“ چنانچہ وہ شخص گیا اور اس نے دس آیات سیکھیں، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر اس کی خبر دی۔
اگر عمرو بن خالد نے اپنی سند میں سالم بن ابی الجعد کا نام محفوظ رکھا ہے تو یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، البتہ معتمر کے بصری شاگردوں نے اس میں ان کی مخالفت کی ہے۔
اگر عمرو بن خالد نے اپنی سند میں سالم بن ابی الجعد کا نام محفوظ رکھا ہے تو یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، البتہ معتمر کے بصری شاگردوں نے اس میں ان کی مخالفت کی ہے۔
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عمرو بن علي وأحمد بن المِقدام، قالا: حدثنا المعتمر، قال: سمعت أبي يحدِّث عن قَتَادة، عن أبي الجعد أو (1) ابن أبي الجعد، عن أبي أُمامة، عن النبي ﷺ، نحوه (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے اسی کے مثل مروی ہے (جیسا کہ حدیث نمبر 2067 میں بیان ہوا)۔