حدیث نمبر: 2067
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة محمد بن عمرو بن خالد، حدثنا أبي، حدثنا المعتمر بن سلمان، قال: سمعت أبي يحدِّث عن قَتَادة، عن ابن أبي الجَعْد (1)، عن أبي أمامة: أنَّ رجلًا جاء إلى النبي ﷺ فقال: يا نبي الله، اشتريتُ مِقسمَ بني فُلان فربحتُ فيه كذا وكذا، قال: "أفلا أنبِّئُك بما هو أكثرُ منه ربحًا؟ " قال: وهل يُوجد؟ قال: "رجل تعلَّم عشرَ آياتٍ"، فذهب الرجل فتعلّم عشرَ آيات، فأتى النبيَّ ﷺ فأخبره (2). إن كان عمرو بن خالد حَفِظَ في إسناده سالمَ بن أبي الجعد، فإنه صحيح على شرط الشيخين، غير أنَّ البصريِّين من أصحاب المعتمِر خالفوه فيه:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں نے فلاں قبیلے کا مال خریدا اور اس میں اتنا اتنا نفع کمایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ نفع بخش چیز کے بارے میں نہ بتاؤں؟“ اس نے عرض کیا: کیا (اس سے زیادہ نفع بخش چیز) موجود ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو قرآن کی دس آیات سیکھے۔“ چنانچہ وہ شخص گیا اور اس نے دس آیات سیکھیں، پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر اس کی خبر دی۔
اگر عمرو بن خالد نے اپنی سند میں سالم بن ابی الجعد کا نام محفوظ رکھا ہے تو یہ شیخین کی شرط پر صحیح ہے، البتہ معتمر کے بصری شاگردوں نے اس میں ان کی مخالفت کی ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2067
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2067] [ترقيم الشركة 2051]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) جاء اسم هذا الرجل في المطبوع مقيدًا بسالم بن أبي الجعد، وهو خطأ. وقد روى البيهقي هذا الحديث عن الحاكم في "شعب الإيمان" (1794) إلّا أنه قال فيه: عن أبي الجعد، كذلك جاء في الأصلين اللذين اعتُمدا في تحقيق الكتاب، كما نبَّه عليه، محققه، وهذا محتمل، كما تدل عليه الرواية التالية لهذا الحديث التي وقع فيها الاسم على الشك: عن أبي الجعد أو ابن أبي الجعد، لكن كلام الحاكم بإثره وتقييده بسالم يرجح أنَّ رواية "المستدرك": ابن أبي الجعد. وكأنَّ الحاكم لما حدَّث البيهقي بالحديث صار إلى القول بأنه أبو الجعد، خلافًا لما قاله في "المستدرك"، والله أعلم.
نوٹ / توضیح: مطبوعہ نسخے میں اس شخص کا نام "سالم بن ابی الجعد" لکھا ہے جو کہ غلط ہے۔ امام بیہقی نے اسے حاکم کے واسطے سے "عن ابی الجعد" روایت کیا ہے اور قلمی نسخوں میں بھی یہی ہے۔ قرینِ قیاس یہی ہے کہ حاکم نے بعد میں اپنی رائے بدل لی تھی، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2067 سے ماخوذ ہے۔