کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قرآن کے فضائل — قرآن کی حفاظت کا حکم اور یہ کہنے سے ممانعت کہ میں فلاں آیت بھول گیا۔
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفاري، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا شعيب بن خالد الرازي، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: قال رسول الله ﷺ: "تَعاهَدُوا هذا القرآنَ، فإنه وَحْشِيٌّ؛ أشدُّ تَفَصِّيًا من صُدور الرِّجال من الإبل من عُقُلِها، ولا يقولَنَّ أحدُكم: نَسِيتُ آيةَ كَيتَ وكَيتَ، بل هو نُسِّيَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس قرآن کی تلاوت کا اہتمام کرتے رہو، کیونکہ یہ (سینوں سے) نکل جانے والا ہے؛ یہ لوگوں کے سینوں سے اتنی تیزی سے نکل جاتا ہے جتنا اونٹ اپنی رسیوں سے نکل بھاگتا ہے، اور تم میں سے کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ (یوں کہے کہ) اسے بھلا دیا گیا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسد بن موسى، حدثنا الليث بن سعد، حدثني ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أُسَيد بن حُضَير: أنه كان يقرأ وهو على ظهر بيته، وهو حَسَنُ الصوت، فجاء رسولُ الله ﷺ فقال: بَيْنا أنا أقرأُ إِذ غَشِيَني شيءٌ كالسحاب، والمرأةُ في البيت، والفرسُ في الدار، فتخوّفتُ أن تُسقِطَ المرأةُ وتَنفَلِتَ الفرسُ، فانصرفتُ، فقال له رسولُ الله ﷺ: "اقرأْ يا أُسَيدُ، فإنما هو مَلَكٌ استَمَعَ القرآنَ" (2)
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر تلاوت کر رہے تھے اور ان کی آواز بہت خوبصورت تھی، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں تلاوت کر رہا تھا کہ اچانک ایک بادل جیسی چیز نے مجھے ڈھانپ لیا، گھر میں اہلیہ تھیں اور صحن میں گھوڑا بندھا تھا، مجھے ڈر لگا کہ کہیں (گھوڑے کے بدکنے سے) اہلیہ کو چوٹ نہ لگ جائے یا گھوڑا چھوٹ نہ جائے، اس لیے میں نے تلاوت چھوڑ دی، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اے اسید! پڑھتے رہتے، کیونکہ وہ تو فرشتے تھے جو قرآن سننے کے لیے آئے تھے۔“
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الزُّهْري، عن ابن كعب بن مالك: أنَّ أُسيد بن حُضَير أتى النبي ﷺ، فذكر الحديث بنحوه، وقال فيه: قال رسول الله ﷺ: "اقرأْ أُسيدُ، اقرأْ أُسيدُ، فإنَّ ذلك مَلَكٌ يَستمِعُ القرآن" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ على شرط مسلم، من حديث عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أُسيد:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ على شرط مسلم، من حديث عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أُسيد:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اسید! پڑھتے رہتے، اے اسید! پڑھتے رہتے، کیونکہ وہ فرشتے تھے جو قرآن سن رہے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔